US to tighten noose around TTP, IS-K: State Deptتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن: امریکہ نے عہد کیا ہے کہ چونکہ دولت اسلامیہ خراسان (داعش خراسان) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں لہٰذا ان دونوں دہشت پسند گروپوں کے خلاف نکیل اور کسے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے پاکستان کے ناظم االامور متعین افغانستان عبید نظامانی پر کابل میں قاتلانہ حملہ کے کئی روز بعد ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ داعش خراسان نے اس حملہ کی ذمہ دای اپنے سر لی ہے۔

واضح ہو کہ اس حملے میں سیکورٹی گارڈ نے ناظم الامور کی ڈھال بن کر گولیاں اپنے جسم پرکھا لی تھیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ ہم القاعدہ، داعش خراساں، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو، جو امریکہ اور ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں، مزید کمزور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں امریکہ نے چار ٹی ٹی پی اور جنوبی ایشیائی القاعدہ کے بدنام زمانہ انتہاپسندوں کو عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے افغانستان مقیم تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرنے کا عزم کیا تھا ۔

علاوہ ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدارن بھی اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں سرگرم دہشت امریکہ و پاکستان کے مشترکہ حریف ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کر نامریکا اور پاکستان کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی انسداد دہشت گردی اقدامات کی حمایت کا وعدہ بھی کیا۔امریکہ اقامت پذیر پاکستانی دفاعی ماہر شجاع نواز کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کی کارروائیوں پر نظر رکھناا اور ان کا قلع قمع کر نے میں تعاون جاری رکھنا پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *