نئی دہلی: جموں و کشمیر مکے دارالخلافہ سری نگر کے ایم ایل اے ہاسٹل میں رکھے گئے پانچ لیڈروں کے علاوہ تمام سیاسی قیدیوں کو جنوری میں رہا کر دیا جائے گا۔

ذرائع نے کہا کہ جس پانچ لیڈروں کو جلدی رہا نہیں کیا جائے گا ان میں پیوپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون، نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، ساقب آئی اے ایس افسر اور جموں و کشمیر پیپلزموومنٹ کے صدر شاہ فیصل ،سینیر پی ڈٰ پی لیڈر نعیم اختر اور پی ڈٰ پی یوتھ ونگ کے صدر وحید الرحمٰن پرے شامل ہیں۔

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کہا ہے ،بتایا کہ ان پانچ لیڈروں کے علاوہ باقیوں کو بتدریج ٹکروں میں رہا کیا جاتا رہے گا۔اس ہفتہ کم از کم چھ افراد کی رہائی کے پروانے پر دستخط ہوجانے کے بعدان کا رہا ہونا طے ہے۔

آج کی تاریخ تک ایم ایل اے ہاسٹل میں پی دی پی کے اعجاز میر ، نیشنل کانفرنس کے سلمان ساگر ،شوکت گنائی،علی محمد ڈار اور الطاف کولواور عوامی اتحاد پارٹی کے وکیل اور سماجی کارکن بلال سلطان سمیت26افراد زیر حراست ہیں۔

وادی کے مختلف حصوں سے بیشتر لیڈروں کو اگست میں ہی جب جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ370ختم کی گئی تھی،گرفتار کر لیا گیاتھا۔