نئی دہلی: ریاست راجستھان کے شہرکوٹہ میں ایک ماہ کے دوران 100 نومولود و شیر خوار بچے ہلاک ہوگئے۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق سرکاری جے کے لون چلڈرن ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ بچوں کی موت بنیادی طور پر کم وزن ہونے کی وجہ سے ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ محض دو روز میں کم از کم 9 نومولود کی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ 23 اور 24 دسمبر کے محض 48 گھنٹوں میں مذکورہ سرکاری ہسپتال میں 10 بچوں کی اموات ہوئی تھی۔دوسری جانب ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال لون چلڈرن میں سال 2019 کے دوران ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 2018 کے مقابلے میں کم ہے جب ایک سال میں ایک ہزار 5 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

اس ضمن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی نے ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں کے بنیادی ڈھانچے پر تشویش کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ کمیٹی میں لاکٹ چیٹرجی، کانٹا کاردم اور جسکور مینا شامل تھے۔پینل نے بتایا کہ دو سے تین شیر خوار ایک پلنگ پر زیر علاج ہیں اور ہسپتال میں نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

اس سے قبل ہندوستان کے قومی حقوق برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) نے ریاست میں کانگریس حکومت کو شوکاز نوٹس دیا تھا۔این سی پی سی آر کی چیئر پرسن پریانک کانونگو نے کہا تھا کہ ‘سور ہسپتال کے احاطے میں گھومتے پھرتے ہوئے پائے گئے’۔دوسری جانب راجستھان حکومت کی کمیٹی نے کہا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کو بھرپور طبی سہولیات میسر ہیں۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق شعبہ اطفال کے چیف امرت لال بیروا کی سربراہی میں بھی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

بعد ازاں انہوں نے ہسپتال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نیونٹل انٹینسپ کیئر یونٹ کے ریکارڈ کے مطابق شیر خوار کی 20 فیصد اموات قابل قبول ہیں جبکہ کوٹہ ہسپتال میں اموات کا تناسب 10-15 فیصد ہے جو کسی حد تک تشویشناک نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر شیرخوار کو شدید طبی حالت میں ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔

کوٹہ کے ضلعی کلکٹر اوم قصیرہ نے بھی ہسپتال کا دفاع کیا اور میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں فوت ہونے والے 10 بچوں کو قریبی اضلاع کے دیگر ہسپتالوں سے منتقل کرنے کے بعد تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔