واشنگٹن:امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ امریکہ کا عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیر دفاع کو یہ اعلان اس وجہ سے کرنا پڑا کیونکہ میڈیا میں ایسی رپورٹیں گردش کر رہی تھیں کہ امریکی افواج کی جانب سے عراقی حکام کو ایک مکتوب کے ذریعہ مطلع کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے عراق سے انخلاءکی تیاری میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے مقامات بدلے جا رہے ہیں۔

خطہ سے امریکی فوجوں کے انخلا کے لیے ایران کے مطالبہ میں اتوار کو ملک سے غیر ملکی فوجوں کے نکل جانے کی عراقی پارلیمنٹ میں قرار داد منظور کیے جانے کے بعد سے اور بھی شدت آگئی تھی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے طویل عرصہ سے ایک دوسرے ے دشمن بنے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جمعہ کو اس وقت سے جب سے کہ ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی فوجی جنرل قاسم سلیمانی کی موت ہوئی ہے، لفظی جنگ جاری ہے۔

یاد رہے کہ بغداد ہوائی اڈے پر امریکی ڈرون/راکٹ حملہ میں ہلاک ہونے والے ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل کو رہبر اعلیٰ و قائد انقلاب ؤیت اللہ خامنہ ای کے بعد دوسرا نہایت طاقتور اور بااختیار شخصیت کا درجہ حاصل تھا۔

جنرل سلیمانی کی نماز جنازہ کی، جس میں تاحد نگاہ انسانی سیلاب نظر آرہا تھا، امامت کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای بے اختیار رو پڑے تھے اور ان کے ساتھ ہی نمازجنازہ پڑھنے والوں کی سسکیوں سے بھی فضا اور بھی سوگوار ہو گئی تھی۔