آکلینڈ: ہندوستان نے دو ہاف سنچریوں اور کپتان وراٹ کوہلی کی45رنز کی عمدہ اننگز کی بدولت نیو زی لینڈ کو چھ وکٹ سے شکست دے کر تین ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی سریز میں1-0کی سبقت حاصل کر لی۔اگرچہ
204کے تعاقب میں ہندوستان کو دوسرے ہی اوور میں پہلا زبردست جھٹکا اس وقت لگا جب16مجموعی اسکور پر لیفٹ آرم اسپنرمچل سینٹنر نے روہت شرما کو سلپ میں روز ٹیلرکے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

لیکن لوکیش راہل اور کپتان وراٹ کوہلی نے نہ صرف اننگز کو سنبھالا بلکہ تیزی سے رنز میں بھی اضافہ کرتے ہوئے منزل کی جانب پیش قدمی کر دی۔ اور9اووروں میں ہی نصف منزل طے کر لی۔ 115 اور اسکور115تک لے گئے ۔ اس اسکورپر راہل 27گیندوں پر 56رنز بنا کر لیگ اسپنر ایش سوڈھی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے چار چوکے اور تین چھکے لگائے۔

ابھی ہندوستان راہل کی وکٹ گرنے سے ملے جھٹکے سے سنبھلا بھی نہیں تھا کہ فاسٹ بولر بلئیر ٹکنر نے وراٹ کوہلی کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ کوہلی نے 32گیندوں پر 3چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 45رنز بنائے۔ جس وقت کوہلی آؤٹ ہوئے تو ہندوستان کا اسکور 121تھا۔ اور ابھی ٹیم منزل سے 61رنز دور تھی تو شیوم دوبے بھی چلتے بنے۔ انہوں نے لیگ اسپنرسوڈھی کاد وسرا شکار بننے سے پہلے 9گیندوں کا سامنا کیا اور13رنز بنائے ۔جس میں ان کاایک چوکا شامل ہے۔

لیکن باقی61رنز بنانے کے لیے سریاش ایر اور منیش پانڈے نے کیوی بولروں اچھی طرح خبر لیتے ہوئے تیزی سے رنز بٹورنا شروع کر دیے ۔

خاص طور پر ایر نے ڈیتھ اووروں میں بولروں سے بڑی سوجھ بوجھ مگرسختی سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی جس مین وہ زبردست کامیاب رہے اور فاسٹ بولر بینیٹ کے آخری اور اننگز کے18ویں اوور کا استقبال دو لگاتار باؤنڈریوں سے کر کے11رنز بٹورے۔انہوں نے ساؤدی کے بھی آخری اور اننگز کے19ویں اوور کا استقبال چھکے سے کرنے کے بعد دوسری ہی گیند کو پھر باؤنڈری کی سیر کراکے ٹیم کو منزل سے اتنا قریب کر دیا کہ ابھی 6گیندیں باقی تھیں کہ ایر اور پانڈے وراٹ او ر ٹیم کے لیے جیت کی سوغات لے کر پویلین واپس آگئے۔

ایر نے اپنی طوفانی اننگز میں 29گیندوں پر 58رنز بنائے۔جس کے لئے انہوں نے 5چوکے اور تین چھکے لگائے۔منیش پانڈے نے بھی ا ن کا بھرپور ساتھ دیا اور 12گیندوں پر ایک چھکے کےساتھ14رنز بناکر ایر کے ساتھ5ویں وکٹ کے لیے 61رنز کی غیر مفتوح پارٹنر شپ کی۔ انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔نیوز لینڈ کی طرف سے سوڈھی دو وکٹ لے کامیاب بولر رہے۔اس سے قبل وراٹ کوہلی کی جانب سے پہلے بیٹنگ کے لیے مدعو کیے جانے پر میزبان ٹیم نے تین ہاف سنچریوں اور مارٹن گپتل کی طوفانی اننگز کی مدد سے مقررہ20اووروں میں5وکٹ پر203رنز بنائے۔

جو باوجود ایک بڑا اسکور ہونے کے ہندوستان جیسی ٹیم کے لیے،جس کے پاس ٹاپ آرڈر میں روہت شرما، لوکیش راہل، وراٹ کوہلی اور سریاش ایر اور مڈل آرڈر میں شیوم دوبے، منیش پانڈے اور رویندر جڈیجہ اور لوور آرڈر میں شردل ٹھاکر جیسے بلے باز ہوں،ناقابل رسائی ہدف نہیں ہوسکتا تھا۔کیوی ٹیم نے اگرچہ مارٹن گپتل اور کولن منرو پر مشتمل افتتاحی جوڑی نے 8اووروں میںہی 80رنز کی پارٹنر شپ کر کے یہ تاثر دیاکہ ٹیم 220-230کا ہدف دے گی ۔لیکن ہندوستان کے اسٹرائیک بولر جسپریت بومرا اور چاہل ، جڈیجہ و دوبے کی کفایتی بولنگ کی بدولت نیوزی لینڈ اس ہندسہ تک نہ پہنچ سکا۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے منرو 42گیندوں پر 6چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے59رنز بنا کر نمایاں رہے۔

روز ٹیلر نے200کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بٹورتے ہوئے 27گیندوں پر54رنز بنائے اور تین چوکے اور اتنےہی چھکے لگائے۔ کپتان ولیمسن بھی اپنے بلے بازوں سے کہاں پیچھے رہنے والے تھے ۔ انہوں نے26گیندوں پر چار چوکوں اور چار ہی چھکوں کے ساتھ51رنز بنائے۔گپتل نے 19گیندوں کا سامنا کیا اور چار چوکوں اور ایک چھکے کےساتھ30رنز بنائے۔ہندوستان کی طرف سے بومرا، شردل ٹھاکر، یجوندر چاہل،دوبے اور جڈیجہ نے ایک ایک وکٹ لی۔