دوبئی: ابھی اسرائیل نے یہ اعلان کیا ہی تھا کہ اس نے اپنے شہریوں کو حج و عمرہ کی ادائیگی اور تجارتی امور کی انجام دہی کے لیے اپنے شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت دے دی ہے سعودی عرب نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو سرزمین سعودی عرب پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خبر رساں ایجنسی سی این این نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے حوالے سے کہا کہ ”اسرائیلییوں کوسعودی عرب میں نہیں آنے دیا جائے گا“۔

سعودی عرب نے پیر کے روز اس امر کی تصدیق کی کہ اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل لوگوں کو مملکت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اتوار کے روز اسرائیل کے اس اعلان کے باوجود کہ اب اس کے شہری سعودی عرب کا سفر کر سکتے ہیں سعودی عرب کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پہلے بھی کوئی اسرائیلی سعودی عرب میں داخل نہیں ہوسکتا تھا اور آج بھی کسی اسرائیلی کو سعودی عرب کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں ہے۔”ہماری پالیسی طے ہے “۔

”ہم اسرائیل سے تعلقات نہیں رکھتے اور اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے فی الحال سعودی عرب کا دورہ نہیں کر سکتے“۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں کوئی امن معاہدہ ہو جائے گا تبھی خطہ میں اسرائیل کی شمولیت کا معاملہ زیر غور آئے گا۔