کابل: دولت اسلامیہ فی العراق و الشام خراسان (آئی ایس آئی ایس خراسان) نے لگاتارچوتھے روز بھی سکھ گوردواروں اور سکھوں کے مکانات کو نشانہ بنا کر دھماکہ خیز مواد سے اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھے اور دھمکی دی کہ جس طرح اس کے دہشت گردوں نے بدھ کے روز شور بازار گوردوارے پر دہشت گردانہ حملہ کر کے خونریزی کی تھی اسی طرح کا ایک اور حملہ پھر کیا جائے گا ۔

اس دہشت گردتنظیم داعش خراسان نے سکھوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان چھوڑ دیں یا پھر مرنے کے لیے تیار رہیں۔

داعش خراسان نے یہ دھمکی بدھ کے روز کابل کے شور بازار میں واقع400سال پرانے گوردوارے پر دہشت گردانہ حملے کے بعد،جس میں کم از کم27افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے،دی ہے۔

اس گوردوارے کی حدود میں واقع دھرمشالہ میں40سکھ خاندان رہائش پذیر تھے جنہوں نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران سکھ فرقہ پر متعدد حملوں کے بعد گوردوارے میں پناہ لی تھی۔

واضح ہو کہ گوردوارے پر حملے کے دوسرے ہی روز جب گوردوارہ حملہ میں مارے گئے لوگوں کے آخری رسوم ادا کیے جارہے تھے تو کریمیشن گراؤنڈ سے 50میٹر کی دوری پر آئی ایس آئی دہشت گردوں نے سکھوں کو نشانہ بنا کر پھر حملہ کیا جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

پرت پال سنگھ نے سوشل میڈٰیا پر خبر دی ہے کہ گذشتہ چند گھنٹے پہلے کابل میں سکھوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔ چونکہ گوردواروں کے باہر دھماکہ خیز مواد پایا گیا ہے اس لیے ایک اور دہشت گردانہ حملہ کا زبردست خطرہ ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تین روز میں یہ تیسرا حملہ ہے۔