Persecution, forced conversion of Hindu girls on rise in Pakistan

ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کے ساتھ خود پاکستان بھی ہلاکت خیز کوویڈ19-وبا سے شدید متاثر ہے وہاں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں پر حکومتی اور غیر حکومتی عناصر کے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے اور بالکل بھی تھمنے میں نہیں آرہا اور تشدد اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دو سے بھی ہفتوں کے دوران صوبہ سندھ میں دو ہندو لڑکیوں کا اغوا کیا گیا اور ان وارداتوں میںایک پاکستانی سیاستداں کے بھائی کو بھی ملوث بتایا جا رہا ہے ۔

سندھ کے ضلع میر پور خاص کے گاؤں رئیس نہال خان میں رائے سنگھ کوہلی کی پندرہ سالہ سنتارا کو مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔جب کنبہ کے افراد شکایت درج کروانے گئے تو پولیس نے شکایت درج کرنے کے بجائے انہیں الٹے سیدھے اور غیر ضروری سوالات کر کے ہراساں و پریشان کرنا شروع کر دیا۔ گھر والے دن بھی تھانے کے باہر بیٹھے رہے ۔ سارا دن انتظار کرنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ۔اسی روزایک اور ہندو لڑکی ، 19 سالہ بھاگ ونتی کوہلی کو اغوا کیا گیا اور اس سے سندھ کے ضلع میر پور خاص کے گاو¿ں حاجی سعید برگادی میں زبردستی اسلام قبول کرایا گیا ۔

کنبے کے مطابق بھاگونتی پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس کو زبردستی قبول اسلام کرا کے اس کی زندگی تباہ کر دی گئی ۔بھاگونتی کے کنبہ کے افراد نے ایک احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کی بیٹی کو واپس کیا جائے۔

اغوا کنندگان پہلے ہی تھانے میں اس کے قبول اسلام قبول کا سر ٹیفیکٹ پیش کر چکے ہیں۔پاکستان میں ہندو اور دیگر اقلیتیں مسلمانوں اور سرکاری حکام کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ایک اور واقعے میں سندھ کے ضلع تھرپارکر کے گاؤں باڑ میلیو میں ہندو بھیل برادری پر حملہ ہوا۔

برادری کے مرد ، خواتین اور بچوں کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا اور ان کے گھر تباہ کردیئے گئے۔اس خطے میں شدید گرمی پڑ رہیہے اور اقلیتی برادری کے خاندانوں کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے پاس پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی اشیائے خوردنی ہیں ۔یہی نہیں بلکہ ان پا س سر چھپانے کو گھر بھی نہیں ہے۔