Pakistan has de-listed over 4000 international terrorists, India tells UN

نئی دہلی:دہشت گردی کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے ایک سخت بیان میں ہندستان نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے کہا ہے کہ پاکستان نے 4000بین الاقوامی دہشت گردوں کے نام اپنی فہرست سے حذف کر دیے اور پاکستان آج بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے فرسٹ سکریٹری پون باڈھے نے کہا ” ہندوستان کے خلاف سرحد پار سے دہشت گردی جاری رکھنے کے لیے پاکستان مقبوضہ کشمیر اور لداخ میں زبردست اخراجات کے ساتھ دہشت گردوں کے کیل کانٹے سے لیس تربیتی کیمپ اور میزائل داغنے کے مقامات قائم کر رہا ہے۔

باڈھے نے کہا کہ جہاں ایک طرف پوری دنیا کوویڈ19-وب سے نمٹنے میں لگی ہے وہیں پاکستان نے اپنی دہشت گردی کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے دنیا کی آنکھوںمیں دھول جھونک کر 4000سے زائد کالعدم قرار دیے گئے دہشت گردوں کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اکتوبر میں پاکستان فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی ہے۔

اس وقت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے فہرست میں ہے۔ اپنے انسدا دہشت گردی وعدوں کو پارا کرنے میں ناکامی پر اسے آئندہ ماہ بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکتاہے۔ہندوستانی سفارت کار نے اس امر کی جانب نشاندہی کہ پاکستان کس طرح پاک مقبوضہ کشمیر کی کس طرح آبادیاتی تبدیلی کر رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عیاری و مکاری اور فریب اس وقت کھل کر دیکھنے میں آئیا جب مستقل رہائش کے امتیازی قوانین کے ذریعہ ہندستان کے مرکزی علاقہ جموں و کشمیر کے پاک مقبوضہ حصوں میں بڑے پیمانے پر داخل کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ حیان کن ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر اور لداخ میں ہر چار مٰں سے تین باہری ہیں۔ انہوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر بابا جان جیسے سیاسی کارکنوں کو جیل میں ٹھونسے جانے کی مثال دی۔

ہندوستانی نمائندے کے یہ تبصرے اس لیے کافی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ پاکستان پاک مقبوضہ کشمیر کے گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ ڈکلیر کرنا چاہتا ہے۔