Indo-China Dispute : Peace must be restored on LAC to avoid tension in Indo-China relations

نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ حقیقی کنٹرول لائن ( ایل اے سی )پر امن و امان بری طرح متاثرہوا ہے جس سے ہندوستان اور چین کے درمیان تعلقات اثر انداز ہو رہے ہیں۔جے شنکر نے یہ بیان مشرقی لداخ میں پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ سے ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی تعطل کے پس منظر میں د یا جہاں ہردو فریقوں نے 50000 سے زیادہ فوج تعینات کی ہے۔

جے شنکر نے اپنی کتاب’انڈیا وے: اسٹریٹجیز فار این انسرٹین‘ پر منعقد ایک ویبنار میں ، گذشتہ تین دہائیوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات کی ترقی کے تاریخی تناظر میں کہا کہ چین – ہندوستان سرحد کا سوال ایک بہت ہی پیچیدہ اور مشکل موضوع ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان۔ چین تعلقات ‘بہت مشکل دور ‘ میں ہیں جو 1980 کی دہائی کے آخر سے تجارت ، سفر ، سیاحت اور سرحد پر امن پر مبنی سماجی سرگرمیوں کے ذریعے سے معمول رہے ہیں۔

جے شنکر نے کہا کہ ہمارا یہ موقف نہیں ہے کہ ہمیں سر حد کے سوال کو حل کرنا چاہئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہت ہی پیچیدہ اور مشکل موضوع ہے۔ مختلف سطحوں پر بہت سی گفتگو ہوئی ہے۔ تعلقات کے لئے یہ ایک بہت ہی اعلیٰ لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک اور بنیادی لائن کی بات کر رہا ہوں اور وہ یہ کہ سرحدی علاقوں میں ایل اے سی پر سکون رہنا چاہئے اور یہ صورتحال 1980 کی دہائی کے آخر سے ہی موجود بھی رہی ہے۔جے شنکر نے مشرقی لداخ میں سرحدی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر امن و سکون میں سخت طور پر خلل پڑتا ہے تو تعلقات پر ظاہر طوری پر اس کا اثر پڑے گا اور یہی بات ہم دیکھ رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اور ہندوستان ابھر رہے ہیں اور وہ دنیا میں ایک ‘بڑے کردار’ کو قبول کررہے ہیں ، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک’ توازن ‘کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ بنیادی چیز ہے جس پر میں نے کتاب میں توجہ مرکوز کی ہے’۔جے شنکر نے کہا کہ مشرقی لداخ میں سرحدی تنازعہ شروع ہونے سے قبل انہوں نے اپریل میں اس کتاب کا مخطوطہ مکمل کرلیا تھا۔ جب وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو زیادہ ہونی چاہئے تاکہ اقتصادی ، فوجی اور دیگر وجوہات کی بنا پر چین کے ساتھ شکوک و شبہات کم ہوں، اس پر انہوں نے معاشیات ، سیاست اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حکمرانی کی الگ فطرت کا تذکرہ کیا۔

جے شنکر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان زیادہ تیزی سے ترقی کرے اور زیادہ موثر ہو لیکن چین کے ساتھ مسابقت کی وجہ سے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ہمیں خود اپنے لئے یہ کام کرنا ہوگا۔ ایک طرح سے ، ہم دنیا میں سبھی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس دنیا کی ہر بڑی سپر پاور دوسرے تمام ممالک کا مقابلہ کررہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ہم چین سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ چین جس طرح سے ترقی کر رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ ہم چین نہیں ہیں۔ جب لوگ سجھاو¿ دیتے ہیں کہ آپ اسے درست کریں۔

انہوں نے ایسا کیا ، آپ نے ویسا کیا۔ ….. ہماری سماجیات مختلف ہے ، ہماری سیاست مختلف ہے ، ہماری حکمرانی کی نوعیت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کسی الگ راستے کے تجربات سے کس طرح سیکھ سکتے ہیں؟ اگر ہم الگ بھی ہیں تو بھی سبق سیکھا جاسکتا ہے ۔جے شنکر نے گذشتہ سات دہائیوں کی اہم جغرافیائی سیاسی پیشرفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کی خوشحالی ، دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کے ابھرنے ، سوویت یونین کے خاتمے اور بعد میں امریکہ کے ابھر نے کا ذکر کیا ، لیکن کہا کہ یہ موڑ 2008 میں آیا تھا۔ جب عالمی معاشی بحران سامنے آیا اور چین ، ہندوستان اور 10 ممالک کا آسیان گروپ ابھرا۔