Supreme Court agrees to urgently hear plea on 150 Rohingya refugees ‘detained’ in Jammu

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جموں میں نظربند روہنگیا مہاجرین کی فوری رہائی کے لئے دائر درخواست پر جلدپر سماعت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اس معاملے پر 25 مارچ کو سماعت ہوگی سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے سی جے آئی ایس اے بوبڈے سے کیس کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔پرشانت بھوشن نے درخواست گزار کی جانب سے الزام لگایا تھا کہ ان روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جائے گا سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ پرشانت بھوشن غلط حقائق بتا رہے ہیں لیکن کیس کی سماعت ہونی چاہئے۔

دونوں فریقین کی باتیں سننے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اگلے جمعرات کو کیس کی سماعت کریں گے۔ در حقیقت ، درخواست میں مرکزی حکومت سے غیر ملکی علاقائی رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کے ذریعہ غیر رسمی کیمپوں میں مقیم روہنگیا افراد کے لئے مہاجر شناختی کارڈ جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کو سرکاری سرکلروں کے حوالے سے ایک خطرہ درپیش ہے جس میں متعلقہ حکام کو غیر قانونی طور پر روہنگیا مہاجرین کی شناخت اور ان میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔روہنگیاؤں کی ملک بدری کے خلاف سپریم کورٹ میں پہلے سے ہی درخواست لگانے والے محمد سمیع اللہ نے کہا کہ روہنگیاو¿ں کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے جو پٹیشن داخل کی ہے وہ انگریزی روزنامہ اور دیگر میڈیا ذرائع سے ملی ان خبروں پر کہ جموں و کشمیر میں روہنگیاو¿ں کو گرفتار کر کے جموں کی ایک ذیلی جیل میں رکھا گیا ہے،داخل کی ہے۔