Iran has enriched uranium more than 67.3% : says IAEA

تہران:(اے یو ایس)اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے(آئی اے ای اے) نے ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق دوشنبہ کو اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اس نے 2015 میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں مقررہ حد سے افزودہ یورینیم کا 16 گنا زیادہ ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے۔آئی اے ای اے نے اپنی رپورٹ میں یہ تخمینہ ظاہر کیا ہے کہ ایران نے 3241 کلوگرام (7145پاو¿نڈ) افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اکٹھا کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اس کل مقدار کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔

جوہری سمجھوتے میں طے شدہ حد کے مطابق ایران یورینیم کی کمپاو¿نڈ شکل میں 300 کلوگرام مقدار ذخیرہ کرسکتا ہے۔یہ یورینیم کی 202۰8 کلوگرام مقدار کے برابر ہے۔آئی اے ای اے کے ویانا میں واقع صدر دفاتر میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان اپریل سے جوہری سمجھوتے کی اصل شکل میں بحالی کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ان مذاکرات کے دوران ہی میں ایران نے نطنز میں واقع جوہری پاور پلانٹ میں یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔واضح رہے کہ ویانا میں جاری مذاکرات میں 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کی اصل تقاضوں کے مطابق بحالی اور اس میں امریکا کی دوبارہ شمولیت کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔

آئی اے ای اے نے قبل ازیں ایک رپورٹ میں اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ایران نے نطنز میں واقع پائلٹ فیول افزدوگی پلانٹ میں یواے 6 کی 60 فی صد تک افزودگی کی پیداوار شروع کردی ہے۔“یو ایف 6 یورینیم ہیکسافلورائیڈ ہے۔اس شکل میں یورینیم کو سینٹری فیوجزمیں افزودگی کے لیے داخل کیا جاتا ہے۔آئی اے ای اے نے ایران کی اس سرگرمی کے بارے میں ایک خفیہ رپورٹ ادارے کے تمام رکن ممالک کو بھیجی تھی۔اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ”ایران کے ایجنسی کو فراہم کردہ اعلامیے کے مطابق یوایف 6 کی افزودگی کی سطح 55۰3 فی صد یو-235 ہے۔

ایجنسی نے تیارشدہ یوایف6 کا ایک نمونہ آزادانہ تجزیے اور تصدیق کے لیے حاصل کیا تھا۔“ایران اس سے پہلے یورینیم کو 20 فی صد تک مصفیٰ افزودہ کررہاتھا اور اس کی یہ سرگرمی بھی 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ وہ اس کی شرائط کے تحت یورینیم کو صرف67.3 فی صد تک افزودہ کرسکتا ہے۔ایران نے یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کاعمل نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کے پلانٹ میں دھماکے کے ردعمل میں شروع کیا تھا۔اس دھماکے سے سینٹری فیوجزمشینوں کو نقصان پہنچاتھا۔

ان میں سے بعض ناکارہ ہوگئی تھیں اور بعض نے کام چھوڑ دیا تھا۔ایرانی حکام نے اسرائیل پر اس تخریبی حملے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے اس واقعہ کو ”جوہری دہشت گردی“ قراردیاتھا اور اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔یادرہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے فروری میں کہا تھا کہ اگر ملک کو ضرورت پیش آئی تو یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے۔یہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار90 فی صد افزودہ یورینیم سے کہیں کم سطح ہے۔ایران نے دسمبر2020ءمیں قانون سازی کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے اضافی اور جدیدسینٹری فیوجز مشینیں نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔