Pakistani journalist Mir ‘taken off air’ after military outburst

اسلام آباد:(اے یو ایس)پاکستان کے سینئر صحافی اور مشہور اینکر حامد میر جنہوں نے صحافیوں کی گمشدگی اور ان پر تشدد کے مسئلے پرفوج کی تنقید کی کو جی او ٹی وی کے شوسے ہٹایاگیا۔ حامد میر نے کہا کہ وہ صحافیوں کی حقوق کے بارے میں اپنی آواز بلند کرتے رہیںگے۔ خواہ اس کے لئے اس کو جان بھی گنوانی پڑے گی۔ حامد میر جی او ٹی وی پر پچھلے 20سالوں سے کیپٹل ٹاک کے نام سے ایک نیوز شو چلاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ان پر پابندی لگائی گئی اورحملہ بھی کیاگیا ہے۔لیکن وہ بال بال بچ گئے۔جی او نیوز کے مالکان نے کہا کہ حامد میر جنگ گروپ کے ساتھ وابستہ رہیںگے حالانکہ انہیں کچھ دنوں کے لئے رخصت پر بھیجا گیاہے۔ حامد میر نے کئی بار پاکستانی فوج اور ان کی خفیہ ایجنسی کو آئی ایف آئی پر تنقید کی ۔ اس کے لئے انہیں بارہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کو کئی دنوں سے خوف وہراساں کیاجارہا تھا۔حامد میر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے ا±نہیں پروگرام کی میزبانی سے روک دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی طرف سے صرف اتنا کہا گیا کہ آپ اپنے شو کی میزبانی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ “اب تک میں نے خود سے کوئی فیصلہ نہیں کیا کیوں کہ میرے ساتھی صحافی اس معاملے میں میرے ساتھ ہیں اور میں ان کے کہنے کے مطابق آگے کا لائحہ عمل اپناو¿ں گا۔اس بارے میں اب تک’جنگ و جیو گروپ‘ کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔حامد میر کے خلاف گوجرانوالہ کے ایک اخبار ‘مخلوق’ کے سب ایڈیٹر کی طرف سے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے خلاف بات کرنے پر مقدمے کے اندراج کے لیے بھی درخواست دی گئی ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حامد میر کوآف ایئر کرنے کی مذمت کی ہے۔البتہ، وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ حامد میر کو آف ایئر کرنے کے لیے حکومت نے کوئی دباو¿ نہیں ڈالا۔ذرائع کے مطابق ٹاک شو کی میزبانی اب حامد میر کی جگہ اسی گروپ سے منسلک کوئی اور اینکر کریں گے۔حامد میر نے جمعے کو صحافی اسد طور پر حملے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی اور اس موقع پر انہوں نے تقریر کرتے ہوئے بعض ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔صحافی اسد علی طور نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمے داری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر عائد کی تھی۔ تاہم ہفتے کی شب وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں آئی ایس آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایجنسی کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔حامد میر کے بقول “صحافی بہت سی باتیں اس وجہ سے نہیں کر پاتے کہ اسٹیبلشمنٹ میڈیا مالکان پر دباو¿ ڈالتی ہے جس کی وجہ سے کئی صحافی بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ویڈیو کے مطابق حامد میر نے کہا کہ اب اگر آپ ہمارے گھر میں گھس کر ماریں گے تو ہم آپ کے گھر میں تو نہیں گھس سکتے آپ کے پاس ٹینکیں اور بندوقیں ہیں۔ لیکن ہم آپ کے گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ کس کی بیوی نے کس کو کیوں گولی ماری اور اس کے یپچھے کون جنرل رانی تھی۔حامد میر کی حالیہ تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس کا ردِ عمل ضرور آئے گا۔ ان کے اس بیان پر گزشتہ تین روز سے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’حامد میر‘ ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے اور ان کے حامی و مخالفین اس بارے میں اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

البتہ حامد میر پر پابندی سے متعلق صحافی عاصمہ شیرازی کی جانب سے پیر کو کی جانے والی ایک ٹوئٹ پر حامد میر نے کہا کہ ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی دو مرتبہ ان پر پابندی لگائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ دو مرتبہ ملازمت کھو چکے ہیں اور مبینہ قاتلانہ حملے میں بھی بچے ہیں لیکن یہ تمام کوششیں انہیں آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس مرتبہ کسی بھی قسم کے نتائج بھگتنے کو تیار ہیں اور وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔جنگ گروپ کے ایک سینئر کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حامد میر کو فی الحال آف ایئر کیا گیا ہے لیکن وہ بدستور گروپ کا حصہ رہیں گے۔ان کے بقول پروگرام ‘کیپٹل ٹاک’ کسی اور اینکر کے ذریعے جاری رہے گا اور حالات بہتر ہونے پر حامد میر ہی اس پروگرام کو دوبارہ کریں گے۔یاد رہے کہ حامد میر پر دوسری بار یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ان کے پروگرام پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد صحافی محمد مالک کئی ماہ تک ان کا پروگرام کرتے رہے تھے۔بعد ازاں حکومت کے ساتھ معاملات بہتر ہونے پر حامد میر دوبارہ یہ پروگرام کرنے لگے تھے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اسد طور پر ہونے والے مبینہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم قبل ازوقت کسی کو موردِ الزام ٹھیرانا درست نہیں ہے۔پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے بھی وزارت اطلاعات کے توسط سے جاری ایک بیان میں صحافی اسد طور پر ہونے والے مبینہ تشدد سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔آئی ایس آئی کا موقف تھا کہ وہ کیس کی تفتیش میں تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کے الزامات ظاہر کرتے ہیں کہ سازش کے تحت آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ آئی ایس آئی سمجھتی ہے کہ سی سی ٹی وی میں ملزمان کی شکلیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں تو پھر کیس کی تفتیش کو آگے بڑھانا چاہیے۔

دوسری جانب پولیس نے اسد طور کی رہائش گاہ کے اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی مدد سے اہم شواہد حاصل کیے ہیں۔ اس بارے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بارہا کوششوں کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔اس بارے میں پولیس ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسد طور کے گھر کے قریب موجود کیمروں کی مدد سے پولیس نے اس گاڑی کی معلومات حاصل کر لی ہیں جن میں حملہآور آئے تھے۔وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں پہلے دن سے اسد طور کے ساتھ رابطے میں ہیں۔پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سوال کے جواب میں فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد حکومت نے فوری طور پر پولیس کو اسد طور سے رابطہ کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کی ہدایات دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سیکیورٹی اداروں پر الزام لگانا کسی طور مناسب نہیں اس سے ملک دشمن عناصر فائدہ ا±ٹھا سکتے ہیں۔ا±ن کا کہنا تھا کہ حکومت صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں جرنلسٹ پروٹیکشن بل بھی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں ایک اہم ویڈیو فوٹیج ملی ہے جس کے ذریعے جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن اب تک اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیںآئیں۔حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس نے گزشتہ برس پاکستان کی تین درجہ تنزلی کرتے ہوئے اسے 145 ویں نمبر پر کر دیا تھا۔فریڈیم نیٹ ورک کے مطابق اسلام آباد اس وقت صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کی شام برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام ‘ہارڈ ٹاک’ کو ایک انٹرویو کے دوران صحافیوں پر حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ مغربی میڈیا میں ہر بات کا الزام ’آئی ایس آئی’ پر عائد کر دینا فیشن بن چکا ہے۔ان کا دعویٰ تھا کہ صحافیوں پر زیادہ تر حملوں کی وجہ امیگریشن وجوہات ہیں۔ ان کے بقول صحافی ان حملوں کو جواز بنا کر بیرونِ ملک اچھے مستقبل کے لیے جانا چاہتے ہیں۔دوسری جانب صحافتی تنظیموں نے فواد چوہدری کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔