U.S. spied on Merkel and other Europeans through Danish cables - broadcaster DR

کوپن ہیگن:(اے یو ایس)ڈنمارک کے سرکاری نشریاتی ادارے ڈنمارک ریڈیو ( ڈی آر) نے کہا ہے کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے ‘این ایس اے’ نے ڈنمارک کے فارن انٹیلی جنس یونٹ کے ساتھ شراکت کو جرمن چانسلر انگیلا مرکل سمیت پڑوسی ملکوں کی سینئر قیادت کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے ڈنمارک ریڈیو کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ نتائج سال 2015 کی ان تحقیقات کے ہیں، جن میں ڈینش ڈیفنس انٹیلی کے ساتھ شراکت داری کے دوران امریکی قومی سلامتی کے ادارے ‘این ایس اے’ کے کردار کا جائزہ لیا گیا تھا۔ڈی آر نے اس ضمن میں بنا نام بتائے 9 ذرائع کا حوالہ دیا ہے جن کو ان تحقیقات تک رسائی حاصل تھی۔

خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق، جن میں سال 2012 سے 2014 کے عرصے کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے ڈنمارک کی انفارمیشن کیبلز کو سویڈن، ناروے، فرانس اور جرمنی کے رہنماو¿ں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔ جن رہنماو¿ں کی جاسوسی کی گئی، ان میں جرمنی کے وزیرخارجہ فرینک والٹر سٹین میئر اور جرمنی کے حزب اختلاف کے رہنما پیئرسٹینبرکبھی شامل ہیں۔جب جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان سے ڈنمارک ریڈیو کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں صرف الزامات کی خبر ملی ہے۔ انہوں نے اس پر مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔ڈنمارک کے وزیر دفاع ٹرائین بریمسن نے میڈیا میں انٹیلی جنس امور سے متعلق ” قیاس آرائیوں“ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ” میں عمومی بات کر سکتا ہوں کہ اس حکومت کا بھی وہی ردعمل ہے جس کا اظہار، سابق وزیراعظم نے سال 2013 اور 2014 میں کیا تھا۔

یعنی اتحادیوں کی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ ناقابل قبول ہے“بریمسن نے ان خیالات کا اظہار خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک تحریری بیان میں کیا۔واشنگٹن میں نیشنل سیکیورٹی ایجنسی اور ڈائریکٹر نیشنل اننٹیلی جنس کے دفتر نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرنے یا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈینش ڈیفنس انٹیلی جنس سروس نے بھی اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ڈنمارک امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور اس کے قریبی ملکوں سویڈن، ناروے، جرمنی، ہالینڈ اور برطانیہ سے آنے اور وہاں تک جانے والی کیبلز ڈنمارک کے زیر سمندر علاقوں سے گزرتی ہیں۔ڈنمارک ریڈیو کے ذرائع کے مطابق امریکہ نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے تیار کردہ اینالسز سافٹ ویئر کے ذریعے، جس کو ’ایکس کی سکور‘ کہتے ہیں، ان کیبلز سے مخصوص معلومات حاصل کیں۔ڈینش ڈیفنس انٹیلی جنس سروس کے کردار سے متعلق تحقیقات کا آغاز سال 2014 میں کیا گیا، جب امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے، ڈنمارک ریڈیو کے مطابق، ایک سال قبل این ایس اے کے کام کرنے کے طریقے سے متعلق انکشافات پر ڈنمارک میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔ایڈورڈ سنوڈن این ایس اے فائل کے بارے میں انکشاف کے بعد سال 2013 میں امریکہ سے فرار ہو گئے تھے جنہں بعد ازاں روس میں سیاسی پناہ دے دی گئی۔

جرمنی کے حزب اختلاف کے رہنما پیئر سٹین برک نے جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں بلاشبہ اپنی دوست انٹیلی جنس سروسز کی خفیہ طریقے سے معلومات حاصل کرنا اور اعلیٰ نمائندوں کی جاسوسی کرانا ان کے الفاظ میں بہت ’مضحکہ خیز‘ ہے۔سویڈن کے وزیر دفاع پیٹر ہلکوسٹ نے سویڈش خبررساں ادارے ایس وی ٹی سے گفتگو میں کہا کہ وہ مکمل معلومات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ناروے کے وزیردفاع فرینک باککے جینسن نے خبر رساں ادارے این آر کے کو بتایا کہ وہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔پیرس میں فرانس کے یورپیئن افیئرز کے وزیر کلیمنٹ بیو نے نے فرانس انفو ریڈیو کو بتایا کہ ڈنمارک ریڈیو کی رپورٹ کو دیکھا جانا چاہیے اور اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو پھر یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہو گا۔ڈنمارک نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ایک مخبر رپورٹ میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر وہ اس کیس کی تفتیش کرے گا۔توقع ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات اس سال مکمل ہو جائیں گی۔