Seventy five year-old Chicago man becomes oldest American to scale Mount Everest

واشنگٹن:(اے یو ایس)امریکی کوہ پیما آرتھر موئر نے 75 سال کی عمر میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے پہلے ایک اور امریکی کوہ پیما بل برک نے 67 سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ پر پہنچنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی 45 برس کی سانگ ین نے بیس کیمپ سے ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی پر پہنچنے کے لیے 25 گھنٹے اور 50 منٹ تک چڑھائی کر کے دنیا کی تیز ترین خاتون کوہ پیما کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جب کہ تیز ترین مرد کوہ پیما کا ریکارڈ 10 گھنٹے اور 56 منٹ کا ہے، جو لاکپا گیلو نے بنایا تھا۔موئر کو 2019 میں ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کی کوشش میں ایک حادثہ پیش آ گیا تھا جس میں ان کے گھٹنا زخمی ہوا۔

تاہم یہ حادثہ بھی چوٹی سر کرنے کی ان کی خواہش کو روک نہ سکا اور انہوں نے تندرست ہونے کے بعد دوبارہ کوہ پیمائی شروع کر دی۔موئر جب ایورسٹ سر کرنے کے لیے امریکہ سے روانہ ہو کر کھٹمنڈو پہنچنے تو وہاں انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ پہاڑ کتنا بڑا ہے۔ کتنا خطرناک ہے اور اس پر چڑھائی کے دوران کتنی غلط چیزیں ہو سکتی ہیں۔ جو آپ کو پریشان کر سکتی ہیں، قدرے خوف زدہ کر سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ جب میں چوٹی پر پہنچا تو مجھے حیرانی ہوئی۔ لیکن اس وقت میں اس قدر تھکا ہوا تھا کہ میرے لیے کھڑے ہونا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چوٹی پر اپنی تصویروں میں میں بیٹھا ہوا نظر آ رہا ہوں۔

معمر ترین امریکی کوہ پیما جب ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے ارادے سے 30 مئی کو کھٹمنڈو ایئرپورٹ پہنچا تو لوگ اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔موئر نے کوہ پیمائی 68 سال کی عمر میں شروع کی تھی اور انہوں نے 2019 میں ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنے کی پہلی کوشش سے قبل جنوبی امریکہ اور الاسکا کی کئی بلند چوٹیاں سر کیں۔موئر شادی شدہ ہیں۔ ان کے ہاں تین اولادیں اور چھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔ سب سے چھوٹا بچہ ایک لڑکا ہے جو اس وقت پیدا ہوا جب موئر اس سال کوہ پیمائی میں مصروف تھے۔نیپال ان دنوں کرونا وائرس کی ایک شدید لہر کی زد میں ہے۔ اس وبا سے کوہ پیما بھی محفوظ نہیں ہیں۔ موجودہ سیزن میں ماو¿نٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے تین ٹیموں کو وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث اپنے گائیڈوں سمیت اپنی مہم منسوخ کر کے واپس جانا پڑا، جب دیگر سینکڑوں کوہ پیماو¿ں نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی کی جانب اپنی مہم جاری رکھی۔