Israel opposition parties agree to form new unity government

یروشلم: اسرائیل کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مخلوط حکومت تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے ساتھ ہی نتن یاہو بنجامن کی12سالہ وزارت عظمیٰ کے دور کا اختتام ہو جائے گا۔وسطی یش عتید پارٹی کے سربراہ یاؤر لپید نے اعلان کیا کہ 8جماعتی مخلوط حکومت بنالی گئی ہے اور باری باری معاہدے کے تحت یمینا پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ پہلے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیے جائیںگے اور پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ مسٹر لیپید کو منتقل کر دیں گے۔لیکن دوسری جانب رخصت پذیر وزیر اعظم نتین یاہو نے بائیں بازو حکومت کو خطرناک بتایا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے دائیں بازو کے تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ مخلوط حکومت کی، جسے ابھی حلف برداری سے پہلے پارلیمنٹ کی منظوری کی ضرورت ہے، مخالفت کریں۔

نئی حکومت کے بارے میں توقع ہے کہ وہ چند روز بعد اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گی۔واضح ہو کہ اسرائیل اورفلسطین کے درمیان 11روزہ جنگ میں سخت تنقید کا نشانہ بننے والے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی اقتدار سے رخصتی انتخابات میں ان کی پارٹی کی شکست کے بعد سے ہی طے سمجھی جارہی تھی اور اسرائیلی صدر نے حکومت سازی کیلئے مخالف گروپ کو چہارشنبہ تک وقت دیاتھا۔اس میں عرب پارٹی کی شمولیت کا بھی امکان تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ‘فیوچر’ پارٹی کے سربراہ یائیر لبید نے کہا ہے کہ اسرائیل میں قائم ہونے والی نئی حکومت مخلوط ہوگی جو تمام ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دے گی۔ اسی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران یائیرلبید نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے بیان کوخطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

مسٹر یائیر لبید نے کہا ہے کہ ہمارا ہدف اسرائیل میں متحدہ حکومت کا قیام ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اپنے سیاسی حریفوں پر اسرائیل کے جوہری پروگرام کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے لیے سرگرم سیاسی جماعتوں کے پاس خالی اور بے معنی نعروں کے سوا کچھ نہیں۔ یہ نعرے دائیں بازوں کے ووٹروں کے ووٹ چوری کرنے کی کوشش ہے۔نتن یاہونے کہا تھا کہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی حکومت اسرائیلی ریاست کے مستقبل کے لیے خطرناک ہوگی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ باری کے نظام حکومت کے تحت حکومت سازی درست نہیں۔مسٹر نتن یاہو نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”آپ لوگ بائیں بازو کی حکومت بننے کی اجازت ہر گز نہ دیں، یہ اسرائیل کی دفاعی مزاحمت کے لیے بڑا خطرہ ہے ، ذرا سوچیے کہ ایسی صورت میں غزہ، ایران اور واشنگٹن میں کیا ہو گا… یہ لوگ ایرانی جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، کیا یہ لوگ حماس سے جنگ کریں گے ،، نہیں یہ لوگ ایسا ہر گز نہیں کریں گے ،، یہ لوگ تو عسکری خدمت انجام دینے سے انکار کرتے ہیں پھر یہودی بستیوں کا تحفظ کون کرے گا”۔

واضح رہے کہ اگر یہ مخلوط قائم ہوتی ہے کہ اور اس میں عرب پارٹی بھی شامل ہوتی ہے تو اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا اور اس سے بہت سارے نظریے اور پالیسی بدلنے کے امکان ہیں۔گزشتہ دنوں ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں عرب پارٹی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اس وقت کوئی بھی مستحکم حکومت عرب پارٹی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔قبل ازیں رخصت پذیر وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ایران کو جوہری اسلحہ بنانے سے باز رکھنے کے لئے اگر امریکہ سے ہمارے تعلقات کشیدہ بھی ہوتے ہیں تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ڈیوڈ بارنیا کے اسرائیل خفیہ ایجنسی ‘موساد ‘کی سربراہی کا عہدہ سنبھالنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف خفیہ آپریشنوں کو جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا ہے کہ اس وقت اسرائیل کو جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہےوہ ایران کے جوہری اسلحہ بنانے کا احتمال ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ میں نے امریکہ کے صدر جو بائڈن کو بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے۔ یہ بات میں نے اپنے دیرینہ دوست بائڈن سے کہی ہے اور کہا ہے کہ سمجھوتہ ہو یا نہ ہوایران کو جوہری اسلحہ بنانے سے باز رکھنے کے لئے ہم ہر ممکنہ کوشش کرنا جاری رکھیں گے۔نیتان یاہو نے کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہو گا لیکن بلفرض اگر ہمیں دوست ملک امریکہ کے ساتھ کشیدگی اور درپیش خطرے کے درمیان انتخاب کرنا پڑا تو ہم خطرے کو ختم کرنے کا انتخاب کریں گے۔