Iran's Oil Minister in Tehran Oil Refinery to oversee fire extinguishing operation

تہران:(اے یو ایس)ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (اریب) نے ٹیلی گرام پر اطلاع دی ہے کہ تہران کے جنوب میں شہرِرے میں واقع شاہد تونگویان ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی جسے ریسکیو اور امدادی ٹیموں نے سخت جدوجد کے بعد بجھا دیا ۔ایران کے وزیر تیل بیجان زنگے نی نے ریفائنری کا دورہ کیا اور بھیانک آگ پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔تہران کی کرائسیس مینجمنٹ ٹیم کے ڈائریکٹرجنرل منصوردرجاتی نے بتایا ہے کہ ”ریفائنری کی پائپ لائنوں میں سے ایک سے تیل رسنے کے بعد آگ لگی ہے لیکن خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔“ ریفائنری کی سی ای او حامد آرمان کے مطابق اب صورت حال قابو میں ہے اور ریفائنری میں پروڈکشن باقاعدہ شروع ہو گئی۔

اریب کے مطابق اس آئل ریفائنری کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے آتش زدگی کے اس واقعہ میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے ۔اریب سے وابستہ ینگ جرنلسٹ کلب نے بتایا ہے کہ آگ ریفائنری میں موجود تیل ذخیرہ کرنے کے 18 ٹینکوں تک پھیل گئی ۔آتش زدگی کی اطلاع ملتے ہی ایران کی ایمرجنسی سروسز نے متعدد ایمبولینسیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی تھیں۔اس واقعہ سے چند گھنٹے قبل خلیج ع±مان میں ایرانی بحریہ کے سب سے بڑے جہاز کوآگ لگ گئی تھی اور اس کے بعد وہ ڈوب گیا ہے۔واضح رہے کہ ایران میں جون 2020ءکے بعد فوجی ، جوہری اور صنعتی تنصیبات میں آتش زدگی یا دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔چند روز قبل ایران کے جنوب مغربی شہر بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے نزدیک آگ لگ گئی تھی۔