Shah Mehmood Qureshi's special role in making bilateral relations better

قادر خان یوسف زئی

ریاستوں کے درمیان باہمی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی اہم ذمے داری وزارت خارجہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔جنگ ہو یا امن،تعلقات میں مزید بہتری ، یا کشیدگی کو کم کرنا، خارجہ پالیسی کا اہم کردار ہوتا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر خارجہ پالیسی مد و جزر کا شکار رہی، جو حکومتوں میں سیاسی روایات کے تسلسل نہ ہونے کے باعث مستحکم نہیں رہی، اس حوالے سے سابقا ادوار میں خارجہ پالیسی کو عالمی قوتوں کے دباو¿ پر بدلا بھی جاتا رہا، لیکن کئی برسوں سے پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی سیاسی خطوط پر استوار کرنے کی کوشش شروع کردی اور توقع کی جارہی ہے کہ اگر جمہوری حکومتوں کے اقتدار کی مدت میں تسلسل برقرار رہتا ہے تو مملکت دفاعی، داخلی، خارجہ پالیسی سمیت کئی اہم امور میں عالمی قوتوں کے دباو¿ سے بچنے کے لئے موثر حکمت اپنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی قیادتوں کو اس اَمر کا ادارک کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عالمی برداری میں اپنی ریاست کے بہترین تاثر کو موثر بنانے کے لئے وطن عزیز کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ خارجہ پالیسی کی اہمیت کا اندازہ اس اَمر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وطن عزیز میں باقاعدہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے سیاسی شخصیت کے تقرری میں تبدیلی نہ ہونا اور تسلسل عالمی امور میں اپنی جگہ بنانے کے عمل کے باعث اہم ممالک کی توجہ حاصل کرنے میں بتدریج کامیابی حاصل کررہا ہے،گو کہ عالمی قوتیں اپنے فروعی مفادات کی وجہ سے مملکت کی پالیسیوں کو خاطر میں نہیں لایا کرتی تھی، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے فعال کردار کی وجہ سے پاکستان کئی اہم امور پر عالمی برداری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ وزیر خارجہ کے کرونا وبا کے باوجود مختلف ممالک کے دورے و رابطے اہمیت کے حامل ہیں۔

بالخصوص روس و پاکستان کے ما بین دو طرفہ تعلقات وزرات خارجہ کی اہم کاوش شمار کی جاتی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جون 2019 میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس اور ستمبر 2020 میں ماسکو میں ایس سی او کونسل آف وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ لا روف سے ملاقات نے روسی وزیر خارجہ کے نو برس بعد پاکستان آمد کی راہ ہموار کی اور گزشتہ دنوں 2015سے رکے، پاکستان تاپی پائپ لائن منصوبے پر جمود کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد جلد ہی اہم نوعیت کے منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا۔ اہم فورم کے ورچوئل اجلاسوں میں شرکت ہو یا ٹیلی فونی رابطے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملکی خارجہ پالیسی پر خاص کردار ادا کیا۔ مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھانا ان کی ترجیح رہی ہے، اسی طرح مسئلہ فلسطین پر اسرائیل کے کردار پر جس طرح اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، اس کا اثر اسرائیلی وزیر خارجہ کے غصے سے بھرے دیئے بیان سے لگایا جاسکتا ہے، سفارتی آداب سے عاری اسرائیل کا پاکستان کے خلاف نازیبا جملوں کا استعمال ثابت کرتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی تقریر سے اسرائیل میں نسلی عصبیت کی لہر دوڑ گئی اور پاکستانی وزیرخارجہ کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مہم چلا کر زمینی حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی، یہی وجہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں شاہ محمود قریشی کی امور خارجہ پر کی جانے والی کوششوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، کویتی وزیر خارجہ و کابینہ امور کے وزیر مملکت شیخ ڈاکٹر احمد ناصر المحد الصباح اور عراقی وزیر دفاع جمعہ سناد سعدون،ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبدالعزیز کے دورہ پاکستان میں اعلیٰ سطح پر عالمی ایشوز پر دو طرفہ ملاقاتیں اور شاہ محمود قریشی نے دورہ جرمنی کے دو روزہ دورے میں وزیر خارجہ جرمن ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کئے۔شاہ محمود قریشی جرمن پارلیمان کے صدر وولف گانگ شوئبلے اور جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، ہنگری کے وزیر خارجہ و تجارت پیٹر سجارتو اورازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبدالعزیز کاملوف سے بھی ملاقات کی، متحدہ عرب امارات کے تین روزہ دورے کے دوران شاہ محمود قریشی نے متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سمیت اعلیٰ اماراتی قیادت اور دورہ ایران کے دوران وزیر خارجہ نے ایران کے صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت اعلیٰ قیادت کی کی، ترکی میں مسئلہ فلسطین کے لئے اہم حکمت عملی ترتیب دے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرار داد پیش کی جو کامیاب ہوئی اور اسرائیل کے خلاف عالمی انسانی حقوق کمیشن تحقیقات کرے گا،اہم سفارتی روابطسے اس تاثر کی نفی ہوئی کہ پاکستان خطے میں کوئی جانب دارانہ پالیسی رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مختصر دورہ عراق کے دوران عراقی ہم منصب فواد حسین اور عراقی صدر برہام صالح اور وزیر خارجہ نے دورہ عراق کے دوران عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی سے بھی ملاقات کی۔ مصر کے سرکاری اس دورے میں صدر السیسی کے ساتھ ملاقات نے بھی خصوصی توجہ حاصل کرکے ملک دشمن عناصر کو ورطہ حیرت میں ڈالا۔چین کے ساتھ 70برس کے تعلقات مکمل ہونے پر وزرات خارجہ کی جانب سے تقاریب کا انعقاد دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کا اظہار رہا۔خارجہ پالیسی کے میدان میں تعلقات کی وسعت کی ضرورت پاکستان کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ اس لئے افغانستان و ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے کئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں ہیں جس کا عالمی سطح پر مثبت اثر رہا۔ بالخصوص وزرات خارجہ کا متحرک ہونا ایک خوش آئند عمل ہے۔ حزب اختلاف یا بیشتر عناصر کی جانب سے وزیر خارجہ کی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتوں و مزاکرات پر فوری نتائج نہ آنے پر تنقید کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس اَمر سب آگاہی ہے کہ ملکی خارجہ پالیسی کسی نہ کسی عالمی قوت کے فروعی مفادات کی وجہ سے کمزور رہی ہے، اسے اپنے پیروں میں کھڑا ہونے میں وقت درکار ہے، اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت میں اہم وزراتیں غیر منتخب شخصیات کے حوالے کی گئی ہیں،جس پر حکمراں جماعت کے بعض اراکین کی جانب سے اعتراض و تحفظات بھی سامنے آئے ہیں، اسی طرح وزیر اعظم نے متعدد قلمدانوں میں بارہا تبدیلیاں کی ہیں، لیکن وزرات خارجہ کے اہم منصب پرکسی تبدیلی کا نہ ہونا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ وزیر خارجہ کی ٹیم اپنے اہداف پر سنجیدگی سے گامزن ہے۔

موجودہ حکومت میں خارجہ پالیسی کے کمزور ستون کو مضبوط بنانے کے مرحلے میں اہم سینئر ترین سیاست دان شاہ محمود قریشی کے تجربہ، سود مند ثابت ہورہا ہے، تاہم ضرورت اس امَر کی بھی ہے کہ خارجہ پالیسی میں ریاستی موقف کو ٹھوس انداز میں بہتر بنانے کے لئے مزید کوششوں و مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ عالم عرب کے ساتھ دوبارہ بہتر مراسم اور پڑوسی ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاملات پر وزرات خارجہ کی کا وشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی ممالک و امریکہ کے ساتھ مملکت کے خارجہ تعلقات کا زیادہ تر انحصار سیکورٹی معاملات تک محدود رہا ہے، گو کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، لیکن معیشت کی کمزوریوں اور ملک میں عدم سیاسی دعدم استحکام کی وجہ سے یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر مملکتوں سے خارجہ تعلقات کی نوعیت گذشتہ چار دہائیوں میں نازک امور پر قائم رہے ہیں، عالمی تناظر میں ریاستوں و متحرک تنظیموں کو منظم کرنے کے لئے ادارے و قواعد بنائے گئے ہیں، عمومی طور پر اہم اداروں میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی لیبر آفس (آئی ایل او)، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)، انٹرنیشنل آفس مگراگریشن، یورپی یونین (یورپی یونین)، شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم ( ناٹو) میں کسی بھی مملکت کو اپنا اثر نفوذ پید ا کرنے کے لئے سفارتی و دفاعی حکمت کو موثر بنانے اور اہمیت کا احساس دلانے کے لئے ریاستی پالیسیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سفارتی تعلقات میں دفاعی امور، انسانی حقوق، اور انسانی امداد میں ریاستی پالیسیوں سے غیر جانب دارنہ بنیاد کی فراہمی پر درپیش مسائل پر مذاکرات ہونا سہل ہوجاتا ہے، تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ ریاست اپنی خود مختاری کا حصہ قوانین کو بالاتر بنا کر کریں۔ اس طرح معاشی و سیاسی معاملات پر عالمی اوردو طرفہ یا کثیر معاہدے میں مرکزی حکومت کی کمی سے عالمی قوتوں کے بلاک میں شامل ممالک کی حمایت کے لئے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا سہل ہوجاتا ہے۔

موجودہ دور میں انتشار و بے امنی کی بڑی وہ ’سلامتی کی دھن‘ کے نام پر متعدد ممالک میں خانہ جنگی و ابتر سیاسی صورتحال ابتر حالات پیدا کررہے ہیں، ریاست مملکت کی حفاظت کے لئے اتحادیوں کی نئی تشکیل یا طاقتور ممالک کے بلاک میں شامل ہونے کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں، کیونکہ متحرک اور تصوراتی کشیدگی میں اضافہ تنازعے میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے۔ اہم پالیسی میں اس امَر پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ کوئی ملک اپنے فروعی مفادات کے لئے اپنے اتحادی ملک کے ساتھ دھوکہ دہی و بے وفائی کا مرتکب نہ ہو، سلامتی کے لئے ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار عالمی قوتوں کی بھی مجبوری بن چکا ہے لہذا پاکستان کو اپنے خارجہ و دفاعی امور میں قابل ادعتماد ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات و معاشی میدان میں اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت رہتی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر مملکت میں سیاسی استحکام و اقتدار کی منتقلی کے لئے آئینی و قانونی راستے اختیار کئے جائیں تو آنے والی حکومتوں کو اپنی خارجہ پالیسی میں کسی بھی عالمی قوت کے دباو¿ میں آنے کی ضرورت نہیں رہے گی، دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت و ماحول خطے سمیت پوری دنیا کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، اس کے لئے خود انحصاری کی پالیسی کو اختیار کرنے کی ضرورت زیادہ ہے۔ جارحانہ اور دفاعی ہتھیار کے درمیان توازن توازن کے بنیادی ممالک میں ہے۔اس کے باوجود، دفاعی اور جارحانہ ہتھیاروں کے درمیان فرق کرنے کے لئے آسان نہیں ہے، ناقابل اعتماد اور کشیدگی آسانی سے پیدا ہوتا ہے۔کئی دہائیوں کے بگاڑ کو فوراََ درست نہیں کیا جاسکتا، اس کے لئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ہمیشہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔ اس لئے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وزرات خارجہ اپنی استعداد کار میں مزید اضافہ کرے اور جس طرح وزیر خارجہ سرگرم ہیں، انہیں دیگر ممالک میں بھی روابط کو موثر بنانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی دی جائے۔