South Waziristan:Landmines poses a threat to local population

پشاور(اے یو ایس) پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے ایک گاو¿ں میں منگل کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین بچے ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں جس کے بعد علاقے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تحصیل لدھا کے گاو¿ں ٹنگی بدینزائی میں پیش آیا۔زخمی بچوں کو شمالی وزیرستان کے سرحدی قصبے رزمک سے ملحقہ مکین قصبے کے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔افغانستان سے منسلک ہونے اور بے امنی کے کا شکار ہونے کے باعث پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے۔نوے کی دپائی کے اوائل میں جب افغانستان میں متحارب گرہوں کے درمیان جنگ، خانہ جنگی اور محاذ آرائی میں تبدیل ہو گئی تو افغان جنگ کے لیے دنیا بھر سے آنے والا اسلحہ اور بارودی مواد کی تجارت افغانستان کے ساتھ سرحدی قبائلی علاقوں میں بھی شروع ہوئی۔

اسلحے کے خریدار ملک بھر سے ان قبائلی مارکیٹوں اور دکانوں میں آتے جاتے تھے جب کہ بارودی سرنگوں کے زیادہ تر خریدار ان قبائلی علاقوں سے تھے جو اپنے دیرینہ دشمنوں اور تنازعات میں مخالفین کو بارودی سرنگوں سے نشانہ بناتے تھے۔آپس کی دشمن داری اور تنازعات میں بارودی مواد کا استعمال سب سے پہلے 90 کی دہائی کے اوائل میں افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے ملحقہ باجوڑ ہی سے ہوا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے 300 سے زائد واقعات میں 90 افراد ہلاک جب کہ 200 معذور ہو چکے ہیں۔باجوڑ کے بعد دیگر قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے دیگر قبائلی اضلاع میں بھی بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں ہلاکتوں اور لوگوں کے معذور ہونے کی اطلاعات آکاروں کے مطابق امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد جب عسکریت پسند پاکستان منتقل ہو گئے تو پاکستانی طالبان نے اپنے مورچوں اور ٹھکانوں کو محفوظ بنانے کے لیے بارودی سرنگیں بچھا دیں۔افغانستان کے ساتھ ملحقہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کے زیرِ اثر علاقوں تحصیل لدھا اور تحصیل تیارزہ میں 2016 کے بعد بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔چند ہفتے قبل فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل افتخار بابر نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات کرتے ہوئے دکہا تھا کہ ابھی تک جنوبی وزیرستان سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں 48 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دی گئی ہیں اور باقی کے ناکارہ بنانے پر کام جاری ہے۔البتہ، جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن مرتضیٰ محسود جنہوں نے 2016 میں بارودی سرنگوں کے خلاف شروع کی گئی مہم میں حصہ لیا تھا نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ حال ہی میں وہ تحصیل لدھا کے علاقے کوٹکی گئے تھے جہاں انہوں نے خود بارودی سرنگوں کو دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017-2016 میں ان کی اپیل پر ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک سروے شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دی گئی تھیں مگر یہ عمل مکمل نہ ہونے کے باعث اب بھی بارودی سرنگیں مختلف پہاڑی اور غیر آباد علاقوں میں موجود ہیں۔پشاور کے ایک نجی ٹیلی وڑن سے منسلک خاتون صحافی فرزانہ علی بھی مرتضیٰ محسود کے مو?قف کی تائید کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقوں میں بارودی مواد اور سرنگیں موجود ہیں جن کو ناکارہ بنانے سے لوگوں کو درپیش خطرات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے پر کام ہو رہا ہے اور بہت جلد ہی جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے تمام تر علاقوں میں موجود بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ سمیت باقی تمام علاقوں میں بارودی سرنگوں کے ناکارہ بنانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔فرزانہ علی کا کہنا ہے کہ چوں کہ قبائلی علاقوں میں عورتیں، بچے اور بچیاں نہ صرف مال مویشی پہاڑی اور غیر آباد علاقوں میں چراتی ہے بلکہ جلانے کی لکڑیاں بھی جمع کر کے گھروں کو لاتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ لوگ بارودی سرنگوں کی زد میں آتے ہیں۔جنوبی وزیرستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں گزشتہ برس مئی کے دوران بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے دو واقعات میں مجموعی طور پر 13 بچے اور بچیاں متاثر ہوئی ہیں۔