WHO says nearly 2 lakh Palestinians need health aid after Gaza conflict

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردارکیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ ماہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد تقریباً دو لاکھ فلسطینیوں کو مختلف نوعیت کی طبّی امداد کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحرمتوسط ریجن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارے نے ان فلسطینیوں کی طبی امدادکے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔

بیان کے مطابق غزہ میں 77ہزار سے زیادہ افراد اپنے مکانات تباہ ہونے سے بے گھر ہوگئے ہیں۔اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 30 مراکز صحت مکمل یاجزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدہ دار ریک پیپرکورن کا کہنا ہے کہ ”صورت حال بہت ناگفتہ بہ ہے،ڈبلیوایچ او کواس پر سخت تشویش لاحق ہے۔غزہ میں بلاتعطل ضروری امدادی اشیا پہنچائی جانی چاہییں اور جس کسی مریض کو بھی غزہ سے باہر لے جانے کی ضرورت پڑے،اس کی اجازت دی جائے۔“انھوں نے کہا کہ ” فلسطینیوں کی زندگیاں زبوں حالی سے دوچار ہیں۔تنازع سے متاثرہ بہت سے افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے اور انھیں کووِڈ-19 سمیت صحت کے مختلف خطرات کا سامنا ہے۔