Bangladeshi police arrest seven sex trafficking suspects who ‘lured women on TikTok’

ڈھاکہ:(اے یوایس)بنگلہ دیشی پولیس نے ایک ایسے گروہ کے نصف درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جو خواتین کو جسم فروشی کے لیے قائل کرتا تھا۔ یہ گروہ اپنے گھناؤنے مقصد کے لیے ٹک ٹاک ایپ کا سہارا لیتا تھا۔گرفتار کیے جانے والے گروہ کے سات افراد نوجوان لڑکیوں اور خواتین سے ٹک ٹاک کے ذریعے پہلے رابطے استوار کرتے تھے اور پھر انہیں اپنے چنگل میں پھانس کر ہمسایہ ملک ہندوستان کی جسم فروش منڈی میں فروخت کر دیتے تھے۔ یہ گروہ ان خواتین کو پرکشش نوکریاں فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنساتے تھے۔

حال ہی میں خواتین کو جسم فروشی کے لیے دھوکے سے فروخت کرنے والے اس گروہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک عورت پر تشدد کیا جا رہا تھا کیونکہ وہ جسم فروشی کے دھندے کو اپنانے سے انکاری تھی۔ بنگلہ دیشی پولیس افسر کے مطابق جس خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، وہ اس وقت ہندوستان میں پولیس کی تحویل میں ہے۔اس ویڈیو نے بنگلہ دیش اور بھارت کی پولیس کو تفتیشی عمل شروع کرنے پر مجبور کیا اور نتیجے میں جسم فروشی پر مجبور کرنے والے مشتبہ گروہ کے سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔

بنگلہ دیشی پولیس کے تفتیشی افسر محمد شاہد اللہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد جن نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کو فریب دے کر اپنے جال میں پھانستے تھے، ان کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ ان خواتین کو بڑی تنخواہ کا لالچ دیا جاتا تھا۔بنگلہ دیشی پولیس کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کے خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتے جب وہ ہندوستانی سرحد پار کر لیتی تھیں اور پھر ان پر جرائم پیشہ افراد کا ظلم و جبر شروع ہو جاتا۔ پولیس افسر نے مزید بتایا کہ جسم فروشی کے لیے ان خواتین کو شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا اور ان کی نازیبا ویڈیو بھی بنائی جاتیں، جن سے انہیں بلیک میل کیا جاتا۔

محمد شاہد اللہ کے مطابق خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی اور پھر اس مجرمانہ گروہ کے اہم کارکن اور معاون کار کو گرفتار کیا گیا۔ اس کی گرفتاری ہندستان میں کی گئی جب کہ بقیہ گرفتاریاں رواں ہفتے کے دوران بنگلہ دیش میں کی گئیں۔