‘Kashmir road map must for talks,’ says Imran Khan

اسلام آباد:(اے یوایس) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی حکومت کشمیر کے متنازعہ خطے کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کے حوالے سے روڈ میپ پیش کر تیہے تو وہ دیرینہ حریف ہندوستان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا، ”جی ہاں، اگر کوئی روڈ میپ موجود ہے تو ہم ہندوستان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔“عمران خان نے مزید کہا، ”حتی کہ اگر وہ ہمیں ان اقدامات کو ختم کرنے کے لیے روڈ میپ دیتے ہیں، جو بنیادی طورپر غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف تھے، تب بھی یہ ہمارے لیے قابل قبول ہے۔“عمران خان اور ان کی حکومت کا اس سے قبل موقف تھا کہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ہندوستان کو پہلے 2019 کے اپنے اقدامات واپس لینا ہوں گے۔کشمیر جوہری طاقت رکھنے والے دو پڑوسیوں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان طویل ترین تنازعات میں سے ایک ہے۔ 1947 میں برطانوی حکومت سے آزادی ملنے کے بعد سے ہی کشمیر کا تنازعہ شروع ہوگیا تھا اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان اب تک دو جنگیں ہوچکی ہیں۔پاکستان ہندوستان پر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد کرتا ہے جب کہ ہندوستان کا الزام ہے کہ پاکستان کشمیر کے اپنے حصے میں عسکریت پسندوں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔

دونوں ممالک خود پر عائد ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ 2019 میں کشمیر میں ایک ہندوستان فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں چالیس فوجی مارے گئے تھے۔ جس کے بعدہندوستان نے پاکستان میں دہشت گردی کے مبینہ ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔دوسری طرف ہندوستان کی مودی حکومت نے 5اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی اور جموں و کشمیر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کردیا تھا۔ان اقدامات پر احتجاجاً پاکستان نے ہندوستان سے سفارتی تعلقات کم اور باہمی تجارت معطل کر لیے تھے۔روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہمیشہ ‘مہذب‘ اور ‘کھلے‘ تعلقات کے خواہاں ہیں۔انہوں نے یورپی یونین کی مثال دیتے ہوئے کہا، ”یہ عام فہم ہے کہ اگر آپ برصغیر میں غربت کو کم کرنا چاہتے ہیں تو باہمی تجارت اس کے لیے سب سے بہتر ین طریقہ ہے۔“حکومت پاکستان نے مارچ میں اپنے اعلی ترین اقتصادی فیصلہ ساز ادارے کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو اس وقت تک کے لیے موخر کردیا تھا جب تک کہ نئی دہلی کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنے اقدامات کا جائزہ نہیں لیتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر کی خود مختاری کو ختم کرکے ‘ریڈ لائن‘ عبور کی ہے۔ ”انہیں بات چیت بحال کرنے کے لیے ہمارے پاس واپس آنا ہوگا لیکن اب تک ہندوستان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔“ اس سال کے اوائل میں ہندوستانی حکام نے کہا تھا کہ اگلے چند ماہ کے دوران تعلقات کو معمول پر لانے کے خاطر ایک روڈ میپ تیار کرنے کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان بیک ڈور چینل کے ذریعہ بات چیت ہو رہی ہے۔پاکستان نے اس طرح کے رابطوں کے حوالے سے اب تک کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ پاکستان اورہندوستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت شرو ع ہوچکی ہے اور روس ان مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے۔بعد میں ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئیں کہ متحدہ عرب امارات اس بیک چینل ڈپلومیسی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔