My dress and clothes say about me: says Malala Yousafzai

گل بخشالوی

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے برطانوی فیشن ووگ میگزین کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کرتے ہیں، یہ ایک پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی؟‘ملالہ کے اس بیان کی سوشل میڈیا کے فلاسفروں نے خوب خبر لی اس گفتگو کے پس منظر اور اصل مطلب سے نا آشنائی کی بنا پر تنقید اتنی بڑھی کہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی پوپلزئی نے بھی ملالہ کے والد ضیاالدین یوسف زئی سے اس بیان پر وضاحت مانگی جس کے جواب میں ملالہ کے والد نے لکھا کہ ’محترم مفتی پو پلزئی صاحب، ایسی کوئی بات نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کی بیٹی کے انٹرویو کے اقتباس کو سیاق و سباق سے نکال کر اور تبدیل کر کے اپنی تاویلات کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔ اور بس۔‘ملالہ کی جانب سے ووگ میگزین کی سیرین کیل کو دیے گئے انٹرویو میں رومانوی رشتوں کے حوالے سے ابتدائی سوالات پر ملالہ شرما سی گئی تھیں اور کیل کے مطابق وہ انھیں مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھیں، اس لیے انھوں نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔تاہم اس انٹرویو کے اختتام پر ملالہ نے خود سے ہی محبت اور رشتوں سے متعلق بات کرنا شروع کی۔

ملالہ نے بتایا کہ ’ان کے تمام دوستوں کو پارٹنرز مل رہے ہیں لیکن وہ اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔‘ملالہ اپنے والدین کی شادی کو ارینجڈ محبت کا نام دیتی ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور ا±ن کے والدین کی مرضی کے مطابق یہ شادی ہوئی تاہم ملالہ خود یہ نہیں جانتیں کہ وہ کبھی شادی کریں گی ! کریں گی بھی یا نہیں۔’ ملالہ کہتی ہیں اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کر تے ہیں یہ ایک پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی؟‘ ۔‘ملالہ کہتی ہیں کہ ’یونیورسٹی کے دوسرے سال تک میں یہی سوچتی تھی کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی، بچے پیدا نہیں کروں گی، صرف کام کروں گی۔ میں خوش رہوں گی اور ہمیشہ کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ رہوں گی لیکن مجھے یہ علم نہیں تھا کہ آپ ہر وقت ایک جیسے انسان نہیں رہتے۔ آپ میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کی سوچ تبدیل ہوتی ہے۔‘صحافی صباحت زکریا نے اس موضوع پر ملالہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ملالہ ان منجمد ذہنوں کو ہلانے میں کامیاب ہوئی ہیں جو وہ سب کچھ مان لیتے ہیں جو انھیں یہ معاشرہ بتاتا ہے۔‘رشتے کیسے ہونے چاہییں یہ اپنے آپ میں ایک انتہائی دلچسپ موضوع ہے اور اس حوالے سے ملالہ کی تازگی سے بھرپور رائے جان کر بہت خوشی ہوئی۔ تمام اچھی شادیاں دراصل شراکت داریاں ہی ہوتی ہیں۔‘

ملالہ کی جانب سے نوجوانی میں شادی کے رشتے پر سوال کرنا اور یہ کہنا کہ وہ اپنے خاندان کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں ایک بیٹی کی جانب سے کی گئی انتہائی خوبصورت بات ہے۔‘ ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کہتی ہیں کہ ’آج بھی بلوچستان و قبائلی علاقہ جات میں نکاح کی دعا پڑھائی جاتی ہے اور ہمارے بزرگوں کی زبان ہوتی ہے جو نکاح کی گواہی ہوتی ہے، کاغذ نہیں۔‘ ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کی بات درست ہے پشتون معاشرے میں شادی سے قبل نکاح کے موقع امام صاحب لڑکے کے والد سے تین بار پوچھتے ہیںفلا ں کی بیٹی آپ اپنے بیٹے کے لئے نکاح میں قبول کرتے ہیں لڑکے کا والد جواب میں کہتا ہے میں اپنے بیٹے کے لئے فلاں کی بیٹی کو نکاح میں قبول کرتا ہوں، پھر اما م صاحب لڑکی کے والد سے تین بار پوچھتا ہے کہ آپ کو اپنی بیٹی کا نکاح فلاں کے بیٹے کے ساتھ قبول ہے تو اس جواب میں کہتے ہیں قبول ہے ، موقع پر موجود حاضرین دعا مانگتے ہیں اور شادی ہو جاتی ہے اس لئے کہ شادی کوئی پلاٹ کی خریداری نہیں جس کے لیے آپ دستاویزات پر دستخط کر تے ہیں بلکہ اس کا مطلب دعاؤں کے سائے میں نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے۔‘

ہمارے مذہبی معاشرے میں ایک خاص طبقے کا ملالہ یوسف زئی سے خدا واسطے کی دشمنی ہے ملالہ پختو ن معاشرے کی مسلمان بیٹی ہے وہ کھبی بھی ایسا نہیں سوچ سکتی جیسا اس کے متعلق سوچا جا رہا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ ہماری سوچیں منجمد ہیں جب تک ہم دین مصطفےٰ میں زندگی کا حسن نہیں دیکھیں گے ہم کھبی بھی اپنی بیٹیوں کی خوبصورت سوچ کو تسلیم نہیں کر سکیں گے ہمارے پشتون معاشرے میں لڑکی کے والد ین سے کسی بھی قسم کے جہیز کا تقاضہ نہیں کیا جاتا دور ِ حاضر میں نکاح رجسٹرار نکاح نامہ مذہبی اور قانونی تقاضوں کی ضرورت کے لئے لکھتا ہے لیکن والدین بچوں کو جہیز کے ترازو میں نہیں تولتے ۔ملالہ نے کہا ہے کہ میں جانتی ہوں کہ ایک نوجوان لڑکی جس کا کوئی مشن، کوئی نظریہ ہو اس کے دل میں کتنی طاقت ہوتی ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ جو بھی لڑکی یہ سرورق دیکھے گی اسے پتا ہو گا کہ وہ بھی دنیا کو بدل سکتی ہے۔‘ملالہ یوسف ذئی کے انٹرویو میں یہ الفاظ ہی اس تنگ نظر طبقہ کے لئے کافی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’ میر ا لباس ہی میری نمائندگی کرتا ہے کہ میں کہاں سے آئی ہوں۔‘ملالہ نے کہا ’مسلمان لڑکیاں یا پشتون لڑکیاں یا پاکستانی لڑکیاں، ہم جب اپنے روایتی لباس پہنتی ہیں تو ہمیں مظلوم یا بے آواز یا مردوں کی سرپرستی کے تحت زندگی گزارنے والا سمجھا جاتا ہے۔‘’میں ہر ایک کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت کے اندر اپنی آواز بن سکتے ہیں۔‘

ملالہ یوسف زئی کی پاکستانی لباس میں تصویر ووگ کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔‘برطانوی صحافی سیرین کالے نے لکھا: ’یہ ایک خواب تھا جو سچ ہو گیا۔ میں کبھی بھی ملالہ جیسی کسی اور شخصیت سے نہیں ملی۔‘ ’ملالہ ہمیشہ کی طرح شلوار قمیض پہنے اور سر ڈھانپے ہوئے تھی۔ یہ شاید ووگ کا اپنی نوعیت کا پہلا سر ورق ہے۔‘یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ وہ اپنے ملک کی ثقافت کو پیش کر رہی ہیں۔‘یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو اکتوبر 2012 میں طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد علاج کے لیے انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد حصولِ تعلیم کے لیے وہیں مقیم ہیں۔ملالہ نے گذشتہ برس آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی ڈگری مکمل کی ہے اور 2014 میں انھیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ وہ دنیا بھر میں اب تک کی سب سے کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ہیں۔