PTM's Manzoor Pashteen released nearly 8 hours after being detained in Kohat

پشاور: (اے یوایس)پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ سے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا لیکن گرفتاری کے8گھنٹے بعد ہی انہیں رہا بھی کر دیا گیا ۔پی ٹی ایم کے رہنما عبد اللہ ننگیال نے وائس آف امریکہ کو منظور پشتین کی گرفتاری و رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ بنوں سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے جانی خیل میں جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ گنبت کے علاقے سے کوہاٹ پولیس نے حراست میں لیا۔عبداللہ ننگیال کے بقول، منظور پشتین کے ہمراہ حراست میں لیے گئے تحریک کے دیگر ساتھیوں میں بلال، ادریس اور ضہیب بھی شاملتھے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے چاروں افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

دوسری جانب کوہاٹ ڈسٹرکٹ پولس افسر سہیل خالد نے منظور پشتین کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک مختصر مدت کے لیے پولس حراست میں رکھا گیا ۔پی ٹی ایم کے رہنما عبد اللہ ننگیال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلال اور ضہیب پہلے سے درج مقدمات میں عدالت سے ضمانت پر ہیں جب کہ منظور پشتین اور ادریس کے خلاف مقدمات تو درج ہیں لیکن انہیں درج مقدمات میں نہیں بلکہ، ان کے بقول، جانی خیل میں جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنے سے روکنے کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پی ٹی ایم کے کئی رہنما پہلے ہی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں جنوبی وزیرستان سے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر حیدر آباد کی سینٹرل جیل میں گزشتہ برس دسمبر سے قید ہیں۔

چند روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت کو مسترد کر دیا تھا۔علاوہ ازیں، صوابی سے تعلق رکھنے والے یوسف علی خان بھی تقریباً چھ مہینوں سے قید ہیں اور ان پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ملک کے ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی کا الزام ہے۔پشتون تحفط موومنٹ کے رہا ہونے والے کارکنان میں خاتون رہنما ثنا اعجاز بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں پولیس مقابلے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے خلاف 2018 میں ہونے والے احتجاج کے دوران پی ٹی ایم کا قیام عمل میں آیا تھا۔پی ٹی ایم رہنماو¿ں کا موقف ہے کہ ان کی تحریک کا مقصد ملک بھر کے پشتونوں کو درپیش سیکیورٹی، سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کے لیے لوگوں کو متحد کرنا ہے۔