Trump's Facebook ban runs two years till 2023

واشنگٹن:(اے یو ایس)سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس کو کم از کم مزید دو برس تک معطل رکھیں گے جو کہ رواں سال چھ جنوری کو اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اکسانے پر معطل کیے گئے تھے۔نائب صدر فیس بک نِک کلیگ کا جمعے کو اپنے بلاگ میں کہنا تھا کہ یہ معطلی مکمل ہونے کے بعد وہ ماہرین سے رائے لیں گے کہ آیا عوام کو لاحق خطرات میں کمی آئی ہے کہ نہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ماہرین کے بورڈ نے سابق صدر کے اکاو¿نٹس معطل کرنے کی توثیق کی ہے جو کہ کیپٹل ہل پر ہونے والے حملوں کے بعد لگائی گئی تھی جو کہ کمپنی کے مطابق حملوں کی وجہ بنی۔

خیال رہے کہ سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کے اس اجلاس کے دوران کیپٹل ہل کی عمارت پر چڑھائی کی تھی جب اراکین موجودہ صدر جو بائیڈن کی گزشتہ برس تین نومبر کے انتخابات میں فتح کی توثیق کر رہے تھے۔اس ہنگامہ آرائی میں ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے اور امریکی جمہوریت کی علامت کانگریس کی عمارت کو کئی جگہوں پر توڑ پھوڑ سے نقصان پہنچایا گیا تھا۔سابق صدر کے فیس بک اکاؤنٹس کی معطلی کی مدت سات جنوری 2023 کو پوری ہو گی جس روز فیس بک کی طرف سے پہلی بار اکاؤنٹس معطلی کیے گئے تھے۔فیس بک کے اس اقدام کی وجہ سے کانگریس کے نومبر 2022 میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر سابق صدر کے اثر انداز ہونے کی صلاحیت میں بھی کمی ہو گی۔ تاہم 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل سابق صدر کے فیس بک اکاو¿نٹس بحال ہو جائیں گے۔

فیس بک کے اس اقدام پر ڈونلڈ ٹرمپ کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ یہ سات کروڑ 50 لاکھ لوگوں کے علاوہ ان لوگوں کی بھی تضحیک ہے جنہوں نے 2020 کے مبینہ طور پر دھاندلی زدہ صدارتی انتخابات میں انہیں ووٹ دیے تھے۔ایک اور بیان میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب وہ اگلی بار وائٹ ہاو¿س میں ہوں گے تو فیس بک کے بانی مارک زکر برگ اور ان کی اہلیہ کی درخواست پر مزید عشائیے نہیں دیے جائیں گے پھر تب سب کچھ کاروبار ہی ہو گا۔وائٹ ہاو¿س میں جمعے کو ہونے والی بریفنگ میں پریس سیکریٹری جین ساکی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے اکاو¿نٹس کی معطلی کمپنی کا فیصلہ ہے۔جین ساکی کا صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ ان کا مو¿قف یہی ہو گا کہ ہر پلیٹ فارم، چاہے وہ فیس بک ہو، ٹوئٹر ہو یا کوئی ایسا پلیٹ فارم جو کہ کروڑوں امریکیوں تک پیغامات پہنچاتا ہے، اس کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ غلط معلومات کے خلاف کارروائی کرے۔چاہے وہ انتخابات سے متعلق ہو یا پھر ویکسین سے متعلق ہو۔