Ukraine rejects Iranian compensation of 1.5 lakh dollar for plane crash victims

یوکرین: (اے یو ایس )یوکرائن کی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے یوکرین کے بدقسمت طیارے کے متاثرین کے اہل خانہ کو 1.5 لاکھ ڈالر کی پیش کش کو مسترد کرتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے میزائل کے ذریعے یوکرائن کا مسافر طیارہ مار گرایا تھا۔یوکراین کے ذمے دار نے واضح کیا کہ ایران پر لازم ہے کہ پہلے وہ طیارے کے گرنے کے واقعے کی تفصیلات واضح کرے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف عدالتی کارروائی انجام دے کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائے پھر اس کے بعد زر تلافی کی ادائیگی کرے۔

رواں سال اپریل کے اواخر میں نئے ناقابل تردید شواہد سامنے آئے ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے یوکرین کی بین الاقوامی پرواز 752 کو گرائے جانے کا واقعہ کسی بھی صورت کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ یہ اقدام دانستہ طور پر کیا گیا۔ایرانی شہری ہوابازی کی اتھارٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے پر یہ اعلان کیا تھا کہ یوکرین کا طیارہ غلطی سے مار گرایا گیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دشمن ہدف گمان کر کے طیارے کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں طیارے میں سوار مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت کل 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یونیکورن ایرواسپیس کمپنی سے تعلق رکھنے والے کناڈا کے ہوابازی کے ماہر اینڈرے میلنے کے مطابق یہ ایک دانستہ حملہ تھا۔ اس کارروائی میں “سام” نوعیت کے دو راکٹ گرینیڈز استعمال کیے گئے۔ اس ایرانی حملے کا مقصد امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو مو¿خر کرنا تھا۔ اس لیے کہ یوکر ین کے طیارے کے حادثے کے محض پانچ گھنٹے بعد ہی درجنوں غیر ملکی سرکاری ذمے داران نے ایران کا رخ کیا۔ اس کے نتیجے میں خود سے ہی ایک انسانی ڈھال وجود میں آ گئی اور ایران کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا نشانہ بننے سے بچ گیا۔