German church officials face charges for helping refugees

برلن:(اے یو ایس)جرمنی میں کیتھولک کلیسا کے اراکین کے خلاف قانونی مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ جرمن حکومت گرجا گھروں میں پناہ لینے والے پناہ گزینوں کے خلاف سخت تر موقف اختیار کر رہی ہے۔

جرمن گرجا گھروں نے کئی دہائیوں کے دوران سینکڑوں مہاجرین کو پناہ دی ہے۔ جنوبی جرمنی کی ننز یا راہباو¿ں کی ایک فرانسسکن خانقاہ کی ایک نن جولیانا زیلمن کو اس ہفتے کئی سو یورو کا جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پناہ کی متلاشی نائجیریا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو غیر قانونی رہائش فراہم کی۔

نن جولیانا کا کہنا ہے کہ انہوں نے جن دو خواتین کو رہائش فراہم کرنے میں مدد کی ان دونوں کو اٹلی میں جبری جسم فروشی کا سامنا تھا جس سے بچنے کے لیے انہوں نے جرمنی کی راہ لی اور یہاں آنے میں کامیاب ہوئیں۔ جرمنی آکر انہوں نے ‘چرچ اسائلم‘ یعنی چرچ میں پناہ لے لی۔

کلیسا میں پناہ کا مطلب عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ پناہ کے متلاشی ایسے افراد جنہیں ملک بدری کے خطرات کا سامنا ہو، انہیں عارضی طور پر پناہ دی جائے۔ اس کا مقصد انفرادی پناہ گزینوں کے لیے سیاسی پناہ یا امیگریشن کی مسترد شدہ درخواستوں پر نظرثانی کے لیے وقت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جرمنی میں چرچ میں پناہ دینے کے عمل کی ایک طویل تاریخ ہے۔