A grand alliance will be formed ain the name of Mohajirs and mohajirs will be murdered once again

سید عتیق الحسن، سڈنی، آسٹریلیا

جب الطاف حسین مہاجروں کے حقوق کے نام پر مہاجروں کا ووٹ پیپلز پارٹی کو سندھ میں بیچ رہے تھے میں اس وقت سے اپنے کالموں کے ذریعہ یہ مہاجروں کو سمجھاتا تھا کہ الطاف حسین کا مقصد ایم کیو ایم کے نام پر مہاجروں کو اکٹھا کرنا اور پھر اسمبلیوں میں ایم کیو ایم کے نمائندوں کو پہلے بے نظیر اور پھر آصف زرداری کے ہاتھوں بیچنا تھا۔ الطاف حسین اور متحدہ قومی مومنٹ مہاجروں کی ایک بھی مانگ پوری نہ کراسکے، نہ کوٹہ سسٹم ختم ہوا،نہ میرٹ پر نوکریاں ملیں اور نہ ہی گورنمنٹ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مہاجروں کے داخلے میرٹ پر ہوئے، ہاں ہزاروں مہاجر نوجوانوں قتل ہوئے، الطاف حسین فوج سے ڈیل کرکے لندن فرار ہو گئے اور ان کے ساتھی ایک ایک کرکے امریکہ، انگلینڈ اور کناڈامیں سیٹ ہوگئے، وہاں کی شہریتیں حاصل کرکے اپنی جائدادیں بنالیں، اور مہاجروں کوبے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔ پھر رہی سہی کمی الطاف حسین اور اسکے حواریوں نے پاکستان اور فوج کو گالیاں دیکر پوری کرلیں اور مہاجروں کو بدنامی اور شرمندگی کا نشانہ بنایا جس کی سزامہاجر آج تک بھگت رہے ہیں۔

پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے ہمیشہ ایم کیو ایم کو سندھ کے قوم پرستوںا ور پیپلز پارٹی سندھ کے خلاف استعمال کیا بدلہ میں ایم کیو ایم کے لیڈران نے اس کی قیمت وصول کی۔ یہ باتیں میں اسُ وقت سے مہاجروں کو بتاتا رہا ہوں جب مہاجر نوجوان الطاف حسین کے گن گاتے تھے اور جو الطاف حسین کے خلاف بات کرتا تھا اس کو قتل کر دیا جاتا تھا۔آج مہاجر بے حال ہیں ، قائد سے محروم ہیں اور ایم کیو ایم مختلف گروہوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں۔ کراچی ، حیدرآباد، سکھر ، میرپورخاص تباہ کر دئیے گئے ہیں مگر یہ مہاجروں کے جعلی قائدین کروڑ پتی بیرونِ ملک شہریتیں لیکر بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے الطاف حسین کے ساتھ پاکستان اور فوج کے خلاف نعرے لگائے آج ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں بیٹھ کر وائس آف کراچی کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے اور مہاجروں کا گرانڈ الائنس کی باتیں کی جار ہیں ہیں۔ اسِ کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کو ان جعلی مہاجروں کے نمائندوں کے ذریعہ پیپلز پارٹی اور قوم پرستوں کو سبق سکھانا ہے کیونکہ سندھ میں پی ٹی آئی کو آزما کر دیکھ لیا جو سندھ میں عوامی طاقت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ۔کراچی کی عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچایا، عمران خان کو بھاری اکثریت سے کراچی سے جتایا مگر اب کراچی کی عوام پی ٹی آئی سے مایوس ہے کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ کا تعصب کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں سے روز برو ز بڑھ رہا ہے، وفاقی حکومت کچھ کرنے سے قاصر ہے۔

لہٰذا ایک مرتبہ پھر لسانی کارڈ کھیلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔میں نے مہاجروں کے جائز حقوق کے لئے ہمیشہ اپنے کالموں کے ذریعہ آواز بلند کی ہے، اور سندھ میں بلا تفریق میرٹ کی بات کی ہے۔آج ظلم و زیاتی سندھ کے شہروں میں صرف اردو بولنے والوںکے ہی خلاف نہیں ہورہا۔ کراچی اور حیدرآباد میں بڑی کثیر تعداد میں پنجابی، پٹھان اور سرائیکی آباد ہیں ۔ یہ لوگ بھی کوٹہ سسٹم اور سندھ کی متعصبانہ پالیسیوں کا نشانہ ہیں۔ سندھ پولس، سندھ ایڈمنسٹریشن، عدلیہ میں صرف سندھی زبان بولنے والے ہی نظر آتے ہیں۔آج سندھ پیپلز پارٹی کی حکومت نہ سندھ دیہی اور نہ سندھ شہری کسی کو کچھ نہ دے سکی ہے۔ بھوک و افلاس سے سندھ کی دیہی عوام مر رہی ہے، سندھ کے دیہی علاقوں میں نہ صحت، تعلیم اور روزگار ہے بس ہے تو صرف جئے بھٹو کا نعرہ ہے۔ سندھیوں کو جئے بھٹو کے نام پر محکوم بناکر پچھلے پچاس سال سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے شہری عوام سندھی قوم پرستوں اور سندھ پیپلز پارٹی کے متعصب وڈیروں کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔سندھ کے قوم پرست، وڈیرے اور سیاستدان نظریاتی طورپر پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں۔جب تک یہ سندھ کی حکومت پر قابض رہتے ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں کیونکہ وفاق سے صوبے کے نام پر اربوں روپیہ لیا جاتا ہے اور عوام اور سندھ پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی جائدادیں پاکستان اوربیرونِ ملک بنائی جاتی ہیں۔ پاکستانیوں یاد رکھو سندھ کو اگر پاکستان کے ساتھ قائم رکھنا ہے تو سندھ کے قوم پرستوں، سندھ کے وڈیروں اور الطاف حسین کے نظریات کو ختم کرنا ہوگا۔

سندھ کے عوام کے بلا تفریق دلِ جیتنا ہونگے۔ سندھی کی تقسیم شدہ عوام کو جئے بھٹو اور جئے الطاف سے نجات دلانا ہوگی۔ لہٰذا پاکستان کی ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کو سندھ کی عوام کے مسائل حل کرنے ہونگے، سندھ میں لسانی اورقوم پرست سیاست کو دفن کرنا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ اسُ وقت ممکن ہے کہ سندھ سے کوٹہ سسٹم اورلسانی تعصب کے نظام کو ختم کیا جائے ۔مہاجروں کو ان کے حقوق دئیے جائیں۔ سندھ میں سب میں سب ساتھ بلا امتیازسلوک کیا جائے ۔کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میر پور خاص کا پڑھا لکھا نوجوان مجبوراً اپنے بہتر مستقبل کی خاطر پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہے ۔ سندھ کے شہری علاقے جو ایک زمانے میں تعلیم کا گہوارا ہوتے ہیں آج تعلیم سے محروم ہیں اور جو پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر لیتے ہیں وہ پاکستان چھوڑ کر اچھی مراعات پر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ اسی لئے آج کراچی جو ایک زمانے میںدنیا کے صفِ اول کے شہروں میں آتا تھا آج سب سے نیچے درجہ کے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔انِ تمام مسائل کا میرے نزدیک ایک ہی حل ہے جو کہ میں نے دستاویز کی شکل میں شائع بھی کیا ہے اور رائٹس آف مہاجر کے پلیٹ فارم سے اسِ کی بیداری بھی جاری رکھے ہوئے ہوں اور وہ یہ ہے کہ سندھ کو تین نئے صوبوں میں انتظامی اعتبار سے تقسیم کیا جائے ۔سندھ کے موجودہ اضلاع کو ضم کرکے سندھ کو سندھ شمالی، سندھ سینٹرل اور سندھ جنوبی صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔

تین صوبے بننے سے سندھ سے لسانی سیاست بھی ختم ہو جائے گی، سندھی قوم پرستوں، پاکستان دشمن عناصر، سندھ پیپلز پارٹی کے کرپٹ وڈیروں ، سندھو دیش اور جناح پور جیسے ناپاک عزائم کو بھی صاف کیا جا سکے گا۔ میں نے اس سلسلے میں پورا پلان رائٹس آف مہاجر کے نام سے جاری کیا ہے۔ مہاجروں اور سندھ کے شہری علاقوں میں بسنے والے تمام طبقوں اور زبانیں بولنے والوں کو اس پر آواز اٹھانا چائیے۔ یہ کام ایم کیو ایم یا کوئی اور گروپ یا جماعت لسانی سیاست کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتی۔ہاں سندھ کے مہاجر حقیقت ہیں اور سندھ کے دوسرے طبقوں کی طرح ایک متحرک طبقہ ہے جو پاکستان کی سیاست میں اہم کردار رکھتے ہیں۔میں سندھ کے شہری علاقوں میں بسنے والے مہاجروں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا ان جعلی ، خود غرض اور اوسط درجہ کے لیڈران سے اپنی جان چھڑائیں اور آزمائے ہوئے لوگوں کو دوبارہ نہ آزمائیں۔آج ایک مرتبہ پھر وائس آف کراچی اور گرانڈ الائنس کے نام پر مہاجروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا پروگرام ہے۔ مہاجروں کو تمام گروہی اور لسانی سیاست سے دور رہنا چائیے۔ اگر مہاجر ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم یا کسی اور پلیٹ فارم سے کراچی اور حیدرآباد کی سندھ اسمبلی میں موجود تمام سیٹیں پھر جیت بھی جاتے ہیں تو وہ الگ صوبے کی قرار داد اسِ جعلی سندھ اسمبلی سے منظور نہیں کر ا سکتے۔ اس لیے مہاجروں کو قومی سیاست میں شامل ہوکر سندھ کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے رہناچائیے ، اور مہاجروں کے ساتھ تعصب اور زیادتیوں کو انسانی بنیادی حقوق کے مسئلہ کے طور پر اٹھانا چائیے۔ جیسا کہ میں نے رائٹس آف مہاجر میں بیان کیا ہے۔
ای میل:shassan@tribune-intl.com