Israel’s Parliament to Vote on New Government on Sunday

بیت المقدس:(اے یوایس) اسرائیل کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے اس اعلان کے بعد کہ اتوار کے روز نئی مخلوط حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں تحریک اعتماد پیش کی جائے گی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے فی الفور سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا طے ہے ۔ نئی مخلوط حکومت کے قیام کی توثیق کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اتوار کے روز ہونے والی ووٹنگ میں اگر نئی حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیتی ہے تو وہ موجودہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ لے گی۔

یہ بات اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے پارلیمنٹ کے اسپیکر یاریف لیون کے حوالے سے بتائی ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری کی صورت میں نئی اتحادی حکومت اسی روز حلف اٹھا لے گی۔نئی حکومت نے حلف اٹھا لیا تو یہ اسرائیل میں پہلی حکومت ہو گی جس میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے والی شخصیت (نفتالی بینیٹ) اس شخصیت (یائر لیپڈ) سے مختلف ہو گی جس کو واقعتا حکومتی تشکیل کی دعوت دی گئی۔ نمبر وار منصب سنبھالنے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے لیپڈ ستمبر 2023 میں وزیر اعظم بنیں گے۔غالب گمان ہے کہ نئی کابینہ میں 8 خواتین شامل ہوں گی جو ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔

حکومتی اتحاد میں پارلیمنٹ کے 8 عرب ارکان بھی شامل ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی عرب جماعت اسرائیل کی حکومتی تشکیل میں اس نوعیت کا مرکزی کردار ادا کرے گی۔نئے حکومتی اتحاد میں 8 جماعتیں شامل ہوں گی جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ان میں 4 جماعتیں پہلی مرتبہ حکومتی اتحاد میں شریک ہیں۔نئے اتحاد میں شامل 8 جماعتوں میں سے 5 کے سربراہان ماضی میں نیتن یاہو کی حکومتوں میں وزراءکے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔اگر اعتماد کے ووٹ تک یہ لنگڑی لولی مخلوط حکومت متحد رہتی ہے تو 12سال کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ملک پر اسرائیل کے طویل ترین مدت تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے نتن یاہو کے بجائے کوئی دوسرا حکومت کر رہا ہے۔