US president Joe Biden arrives in UK for G7 summit and to meet world leaders

واشنگٹن:(اے یوایس)امریکہ کے صدر جو بائیڈن بطور صدر اپنے پہلے دورہ یورپ کے سلسلے میں برطانیہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ برطانیہ کی میزبانی میں دنیا کی سات بڑی معاشی طاقتوں کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔جمعہ(آج) سے شروع ہونے والا ‘جی سیون’ اجلاس تین روز تک جاری رہے گا جس میں امریکہ سمیت فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کناڈا کے رہنما شرکت کریں گے۔آسٹریلیا، ہندوستان ، جنوبی کوریا اور جنوبی افریقہ کو بطور مہمان شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔اجلاس کے ایجنڈے میں کورونا وبا سے متاثرہ عالمی معیشت کی بحالی، ماحولیاتی تبدیلی، ٹیکس اور روس و چین کی جانب سے ممکنہ چیلنجز شامل ہیں۔صدر بائیڈن اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ امریکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی انتظامیہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا عزم رکھتی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں امریکہ کے اپنے یورپی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی میں کمی آئی تھی جب کہ بائیڈن امریکہ کو عالمی منظرنامے پر قائدانہ کردار کے طور پر سامنے لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔صدر بائیڈن کا آٹھ روزہ دورہ مذکورہ معاملات کی جانب ان کے مستقبل کے سفر کی سمت کا تعین کرے گا۔صدر بائیڈن کے واضح اہداف میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے مغرب کو تیار کرنا، روس کو یورپی سرحدوں کے اندر مداخلت اور انٹرنیٹ پر ہیکنگ سے باز رکھنا اور جمہوریت کے فروغ کے ساتھ آمریت کا مقابلہ کرنا شامل ہیں۔

یورپ روانگی کے لیے ایئر فورس ون طیارے پر سوار ہونے سے قبل بائیڈن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا دورہ چین اور روس کے رہنماو¿ں پر یہ واضح کرنے کے لیے ہے کہ امریکہ اور یورپ متحد ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کا یہ دورہ مخصوص اقدامات یا معاہدوں کی نسبت دنیا کو یہ پیغام دینے کے لئے ہے کہ ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی سمت سابقہ انتظامیہ سے مختلف ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ چلنا چاہتی ہے۔امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کہتے ہیں کہ یہ دورہ صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی مقصد کو آگے بڑھائے گا کہ اس دور کے سب سے بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے دنیا کی جمہوریتوں پر بھروسہ کرنا ہو گا۔صدر بائیڈن برطانیہ میں تعینات امریکی فوجیوں سے خطاب کریں گے۔جمعہ کو جی سیون اجلاس کے موقع پر بائیڈن عالمی رہنماو¿ں سے ملیں گے۔ اس کے بعد وہ برسلز میں ناٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور یورپی یونین کے سربراہوں سے ملاقات بھی کریں گے۔ وسطی اور مشرقی یورپ کی یہ شدید خواہش ہے کہ امریکہ ان کی سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دے۔ جرمنی یہ چاہتا ہے کہ ان کے ملک میں امریکی فورسز کی موجودگی برقرار رہے جب کہ فرانس کی سوچ مختلف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس چاہتا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک دفاعی نوعیت کی اپنی حکمت عملی کی جانب آگے بڑھیں کیوں کہ اب امریکہ پر پہلے کی طرح اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔صدر بائیڈن جنیوا میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ بالمشافہ بات چیت میں صدر پوتین پر اشتعال انگیز کارروائیاں روکنے پر زور دیں گے، جن میں امریکی کاروباروں پر روس میں موجود ہیکرز کے سائبر حملے، حزبِ اختلاف کے لیڈر الیکسی نوالنی کی جیل اور کریملن کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوششیں شامل ہیں۔صدر بائیڈن عالمی وبا کورونا وائرس کے مقابلے کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیں گے کہ وہ چین کی جانب سے ابھرتے ہوئے اقتصادی اور سلامتی کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے متحدہ حکمتِ عملی تیار کریں۔صدر بائیڈن اپنے یورپی اتحادیوں بشمول آسٹریلیا سے یہ بھی کہیں گے کہ وہ گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا زیادہ قوت سے مقابلہ کرنے کا وعدہ کریں۔یورپی لیڈروں کے علاوہ صدر بائیڈن کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بھی بالمشافہ ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوگی جب بعض امور پر دونوں ملکوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں، جس میں خاص طور پر آرمینیا کے باشندوں کی 20 ویں صدی میں خلافتِ عثمانیہ کے فوجیوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں شامل ہیں، جسے حال ہی میں امریکہ نے نسل کشی قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی کی جانب سے ناٹو اتحادی ہونے کے باوجود جدید روسی ہتھیاروں کی خریداری بھی اختلاف کا ایک سبب ہے۔صدر بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اپنے غیرملکی دورے کے متعلق لکھا ہے کہ عالمی بے یقینی کے اس لمحے میں، جب کہ دنیا اس صدی میں رونما ہونے والی وبا کا مقابلہ کر رہی ہے، اس دورے کا مقصد اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور جمہوریتوں کو امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کرانا ہے کہ ہم اس نئے دور کے چیلنجز اور خطرات، دونوں کا مقابلہ کریں گے۔صدر بائیڈن اپنے آٹھ روزہ یورپی دورے کا اختتام روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کے ساتھ کریں گے۔ جس دوران امریکی اداروں اور کاروباروں پر روس کے اندر سے سائبر حملے، امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات، یورپ کی مشرقی سرحدوں پر روسی دباو¿ اور روس کے اندر سیاسی مخالفین کو کچلنے کے امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔توقع ہے کہ صدر بائیڈن اپنے روسی ہم منصب پر زور دیں گے کہ وہ عالمی سطح پر مختلف انداز کی مداخلتوں سے باز رہیں۔