Pakistan will not take responsibility if things go wrong in Afghanistan, says FM Qureshi

اسلام آباد: افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کی11ستمبر ڈیڈ لائن سے چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو شنبہ کو واضح طور پر کہہ دیا کہ اگر افغان امن عمل میں سست روی کے لیے ان کے ملک پر الزام عائد کیا گیا تو وہ اس کی ذمہ داری نہیں لے گا۔ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کی تازہ ترین پر تشدد کارروائیوں کے درمیان افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ انہیں نیک خواہشات پیش کرتے ہیں لیکن ساتھ ہپی پیشگی یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ اگر امریکہ کا مقصد کوئی نیا کھیل کھیلبنا یا چال چلنا ہے اور پاکستان کو افغا نستان کے دگرگوں حالات اور امن عمل میں سست رفتاری کا ذمہ دار ٹہراتا ہے تو وہ لاحاصل ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، انسداد دہشت گردی کے لیے افغانستان، خطے اور امریکا کے ساتھ شراکت داری چاہتا ہے، پاکستان نے بھاری نقصان اٹھایا ہے اور شہریوں، فوجیوں کی جانوں کی صورت میں بھاری قیمت چکائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے منتخب نمائندے کے طور پر میں پاکستان میں طالبانائزیشن کو نہیں دیکھنا چاہتا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان بالکل واضح فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا نیز ہم چونکہ پسند نا پسند کے قائل نہیں ہیں اس لیے ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ ہم طالبان کی وکالت کرتے ہیں لیکن یہ سراسر غلط ہے نہ ہم ایسا کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں ۔میں پاکستانی ہوں اور طالبان افغانی ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ہر نسلی گروپ کے کئی افغان رہنماؤں کو اسلام آباد مدعو کرکے واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان، تمام نسلی برادریوں اور رہنماؤں سے، جو امن اور مفاہمت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

قریشی نے کہا کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور پ±رامن اور پائیدار افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہرممکن اقدامات کیے، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کوعالمی سطح پر سراہا گیا، امریکا سمجھتا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل پاکستان کی مدد سے ممکن ہے۔