Two female employees of Afghan Film killed in Kabul blast

کابل: ہفتہ کے روز ایک منی وین کو نشانہ بنا کر کیے گئے ایک دھماکہ میں طیبہ موسوی اور فاطمہ محمدی نام کی جو دو نوجوان خواتین ہلاک ہوئیں وہ افغان فلم نام کی اس تنظیم میں ملازمت کرتی تھیں جو ملک میں فلمیں بناتی اور سنیما کی تشہیر کرتی ہے۔ ان کی لاشوں کی شناخت ہلاکت خیز دھماکہ کے ایک روز بعد ان کے گھر والوں نے کی ۔

گھر کے افراد نے کہا کہ وہ چار گھنٹے تک لاشیں تلاش کرتے رہے اور آخر کار کابل میں ایک مردہ گھر سے ان دونوں خواتین کی لاشیں برآمد ہو گئیں۔انہوں نے حال ہی میں افغان فلم میں ملازمت شروع کی تھی اور بچوں کے لیے اینی میٹڈ فلم بنانے پر کام کر رہی تھیں۔طیبہ کے بھائی نے کہا کہ وہ رات رات بھر پڑھائی کرتی تھی اور ماسٹر ڈگری کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔

نیز وہ اپنے گھر والوں کی مالی مدد بھی کرتی تھی اور اپنے بھائی اور بہن کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہی تھی۔اس کی موت سے مجھے جو صدمہ اور دکھ و تکلیف ہے اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔واضح ہو کہ ہفتہ کے روز کابل میں مسافروں کو لے جارہی دو منی وینوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے دو بم دھماکوں میں کم از کم7افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

بیان کے مطابق ایک دھماکہ کابل کے ڈسٹرکٹ13میں دشت بارچی علاقہ میں اور دوسرا کابل کے ڈسٹرکٹ 6میں مہتاب قلا میں ہوا دونوں دھماکے نصف گھنٹے کے فرق سے ہوئے۔دشت بارچی میں ہوئے دھماکہ میں ایک شخص ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے۔زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔دریں اثنا دوسرے دھماکے میں، جو علی جناح اسپتال کے قریب ہوا، ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے۔