Militants and enemy of peace obstructing the Afghan reconciliation process

قادر خان یوسف زئی

افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی سیکورٹی فورسز و حفاظتی چوکیوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد پاک۔ افغان بارڈر منجمنٹ کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے سے روکنا اور کابل انتظامیہ کی جانب سے اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مذموم سازش کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ افغان علاقے نورستان ، کنڑ میں پاکستان مخالف قوتوں کی موجودگی و مبینہ طور پر کابل انتظامییہ کی سرپرستی کے باعث ایک جیسے طریق کار کے مطابق سیکورٹی فورسز و چوکیوں پر حملے کئے جاتے ہیں ، اب تک کے طریقہ کار کے مطابق دہشت این ڈی ایس کی سرپرستی میں چیک پوسٹ یا جہاں باڑ لگائی جا رہی ہوتی ہے ، گھیرے میں لے کر راکٹ لانچروں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور شدید نوعیت کی فائرنگ سے جانی نقصان پہنچایا جاتا ہے ، پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی کے بعد دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب تو ہوجاتے ہیں کیونکہ افغان سرزمین کی وجہ سے پاک سیکورٹی فورسز کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ سرحد عبور کرسکیں ۔شمال مشرقی افغانستان میں پاکستان مخالف قوتیں جنہیں ، مبینہ طور پر کابل انتظامیہ میں موجود مسلح گروپ اور این ڈی ایس کی حمایت حاصل ہے ، کالعدم جماعتیں جو فوجی آپریشن کے بعد فرار ہوکر افغان سرزمین ، بالخصوص صوبہ کنڑ میں مملکت کے خلاف تسلسل سے مذموم دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔عسکریت پسندوں نے افغانستان سے ملحق علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز سے بچنے کے لئے راہ فرار اختیار کی تھی ، کالعدم تحریکوں کے کئی انتہا پسندوں نے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کیں ، جس میں سیکورٹی فورسز کے علاوہ عوام الناس کو جانی و مالی نقصان پہنچا ، جب باجوڑ پر پاکستانی فورسز نے اپنی رٹ قائم کی تو بانی کالعدم تحریک راہ فرار اختیار کرکے افغانستان چلا گیا ، جہاں 26 فروری2013کو مولوی فقیر محمد اپنے تین دیگر ساتھیوں ملا شاہد عمر ، مولوی تراب اور مولوی حکیم اللہ کے ہمراہ گرفتار ہوا ۔ پاکستان متعدد بار افغانستان سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ اُن کی سرزمین پر موجود انتہا پسندوں کو حکومت کے حوالے او ر ان انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کی جائے لیکن ریاست کے مطالبات پر کبھی مثبت ردعمل نہیں دیا گیا ۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس نے اپریل کے مہینے میں ضمانت پر رہا کیا اور اب بھی مولوی فقیر محمد افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع مرورہ میں شوٹن نامی علاقے میں اپنے رشتے داروں کے پاس جاچکے ہیں جب کہ کالعدم تحریک کے بانی رہنما کے دیگر ساتھی کہاں گئے ، اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہوسکی ، ( کابل انتظامیہ اور پاکستان نے مولوی فقیر گروپ کی این ڈی ایس کی جانب سے رہائی پر سرکاری موقف نہیں دیا) ۔صوبہ کنڑ و ننگرہار کو آئی ایس ( خراساں شاخ) اور داعش (الباکستان) کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ افغانستان میں گذشتہ کئی دنوں سے پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، جس میں خاص طور پر بسوں ، درس گاہوں پر حملے شامل ہیں ۔ 06جون کو ایک مرتبہ پھر افغانستان کے مغربی صوبے بادغیس میں سڑک کنارے نصب بم سے مسافر بس ٹکرائی جس کے نتیجے میں چار خواتین اور تین بچوں سمیت گیارہ شہری جاں بحق ہوئے۔03جون کو بھی مسافر بسوں کو یک بعد دیگرے نشانہ بنایا گیا ۔کابل میں پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز کے مطابق پہلا حملہ کابل کے جنوب مغرب میں ایک شاہراہ پر ہوا تھا، اس دھماکے میں چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ اس علاقے میں زیادہ تر اقلیتی شیعہ کمیونٹی آباد ہے۔جب کہ اس دھماکے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد، پولیس کے مطابق، دوسری مسافر بس کو چند کلو میٹر دور ہزارہ کمیونٹی کے علاقے کے نزدیک ہدف بنایا گیا۔عسکریت پسند گروپ داعش( خراساں شاخ) نے اس سے قبل بھی علاقے میں اسی نوعیت کے حملے کرچکی ہے اور اس سے قبل حملوں میں بھی 02و چھوٹی مسافر بسوں پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 30مئی کو افغان سیکیورٹی حکام کے مطابق مارٹر حملہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگب میں اُس وقت ہوا جب وہاں ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔صوبائی پولیس کے ترجمان شائق شوریش کے بقول دھماکے سے متاثر ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ، کابل میں موجود ایک سینئر پولیس عہدیدار کے مطابق واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوئے۔ خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں برس کے پہلے تین ماہ میں لگ بھگ ایک ہزار آٹھ سو افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ۔ان واقعات کی ذمے داری داعش خراساں شاخ قبول کرچکا ہے ، تاہم کابل انتظامیہ نے پہلے ان حملوں کا الزام افغان طالبان پر عائد کیا ، جس کی افغان طالبان نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کے بیانات اور نمائشی اقدامات پرہماری قوم کو دھوکہ میں نہیں پڑنا چاہیے،بلکہ اس کے عمل کو دیکھنا چاہیے۔

امریکہ و نیٹو افواج نے جب سے اپنی افواج کے مکمل انخلا ءکی تاریخ کا اعلان کے بعد اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا ، عام عوام کو پرتشدد کاروائیوں کا سامنا ہے ۔ امریکہ نے صوبہ ہلمند میں اپنا فوجی اڈا خالی کیا تو عوام کی بڑی تعداد اُسے دیکھنے آئی، کابل انتظامیہ اس کا ادارک نہیں کرسکی کہ صوبہ ہلمند ضلع نہرسراج کے یخچال کے علاقے میں عام شہری ہیں ، جنہیں کابل فضائیہ نے بمباری سے نشانہ بنایا اور30عام شہری اس بمباری سے جاں بحق جب کہ70کے قریب زخمی ہوئے، سڑک کے کنارے پر واقع فوجی یونٹ کو قندہار- ہرات ہائی وے کے ڈرائیور، مسافر اور مقامی افراد کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔اسی طرح ایک مرتبہ پھر کابل فضائیہ نے غیر پیشہ وارانہ تربیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ہی جنگجو ملیشیا کو نشانہ بنادیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے بدخشاں میں ایئر فورس نے غلطی سے حکومت کی جانب سے لڑنے والے پبلک رائزنگ فورس کےجنگجوﺅںکو دہشت گرد سمجھتے ہوئے بمباری کردی۔افغان فضائیہ کی بمباری میں پبلک رائزگ فورس کے 12 اہلکار مارے گئے جب کہ 8 افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ بھی بمباری میں ہلاک ہوگئے۔ افغان ایئر فورس اور مقامی حکومت کی جانب سے واقعے پر تبصرے سے گریز کیا جا رہا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں و ماہرین کے مطابق افغان نیشنل فورس میں تربیت میں خامی کی نشان دہی کی گئی ، دفاعی ماہرین کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افغان سیکورٹی فورس ، میں پیشہ وارنہ قابلیت کی کمی واقع ہے ، امریکہ اپنے انخلا سے قبل افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت کرنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے اور ییہ اعلان بھی کیا ہے کہ امریکہ اپنے انخلا کے بعد بھی 266ملین ڈالر ز کی امدادی رقم کرے گا ، اس امریکی امداد کا حجم 3.9بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے ۔ایسے ان گنت واقعات ہیں جس میں کابل انتظامیہ کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ، رواں برس 115,000 شہری بے گھر ہوچکے ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق مزید پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوں گے ، اس طرح پاکستان پر مہاجرین کا مزید دباﺅ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا کیونکہ داعش اور حکومت میں شامل پرائیوٹ جنگجو ملیشیا عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ پبلک رائزگ فورس کو اپنے سرپرستوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے واقعہ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کابل انتظامیہ کو شناخت کی قابلیت میں خامی کا سامنا ہے ، ان کا تمام زور اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے پر رہتا ہے ، افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد للہ محب نے گذشتہ دنوں افغان صوبے ننگر ہار میں پاکستان کے خلاف انتہائی نازیبا و غلیظ زبان استعمال کی ، جس پر وزرات خارجہ نے باقاعدہ طور پر کابل انتظامیہ کو آگاہ کردیا کہ اُن کے معتصب مشیر کے اشتعال انگیز و نازیبا بانات کے بعد حمد اللہ محب پاکستان کی دسفارتی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان ایسے لوگوں سے ہاتھ ملانے کا بھی روادار نہیں۔

افغا ن مشیر اس سے قبل بھی پاکستان کے خلاف اپنے دلی بغض کا مظاہرہ کرچکا ہے ، حالاں کہ اس سمیت ، ان کا پورا خاندان پاکستان میںپناہ گزیں رہ چکا ہے اور اپنی زندگیاں بچا نے میں کامیاب ہوا ۔ پاکستان کا احسان نہ ماننے والے کوتاہ ذہن و احساس کمتری کے شکار افغان مشیر جیسے امن دشمن عناصرکی ہرزہ سرائی امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ سمیت خود افغان رہنما متعدد بار افغانستان میں داعش کی موجودگی اور ان کی سرپرستی کا الزام کابل انتظامیہ پر عائد کرچکی ہے۔ اسی طرح کابل انتظامیہ نے اپنے اقتدار کے لئے افغان طالبان مخالف جنگجو ملیشیا کو شامل کیا ہوا ہے ، ان گروپوں کے افغان طالبان کے علاوہ بھی آپس میں شدید نوعیت کے اختلافات ہیں اور علاقوں کو اپنے زیر کنٹرول لینے کے لئے جنگ وجدل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ افغانستان میں عام عوام کے خلاف پرتشدد کاروائیوں میں ان مسلح جنگجوﺅں سمیت کابل انتظامیہ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان اٹھایا جارتا ہے۔ گمان غالب یہی نظر آتا ہے کہ کابل انتظامیہ نہیں چاہتی کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو ، بلکہ امریکہ اپنے مالی وسائل کابل انتظامیہ کے فروعی مفادات پر خرچ کرتی رہے اور افغان طالبان و امریکہ کے درمیان جنگ جاری رہے۔بین الافغان مذاکرات کے راہ میں کابل انتظامیہ نے جس قدر رکاﺅٹیں پیدا کیں یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ، اگر دوحہ معاہدے کے مطابق کابل انتظامیہ بین االافغان مذاکراتی عمل میں رخنہ نہ ڈالتی تو افغان اسٹیک ہولڈرز امریکہ کی موجودگی میں ہی افغانستان میں نظام حکومت سمیت قیام امن کے متفقہ فارمولے پر اتفاق کرسکتے تھے ، لیکن جس انتظامیہ میں احسان فراموش مشیر ہوں ، جن کا کام ہی پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں کرنا اور ننگرہار کی ایک تقریب میں نازیبا اور غلیظ زبا ن کا استعمال کرنا بتا دیتا ہے کہ اسے عناصر کا مخفی و ظاہری ایجنڈا ، افغان سرزمین میں امن کے قیام نہیں بلکہ تشدد کی کاروائیوں کو مزید ہوا دینا ہے تاکہ عالمی برداری میں اپنے لئے امدادی فنڈز حاصل کرکے انہیں خورد برد کیا جاسکے ۔ افغان شہریوں کو کوئی بھی گروہ یا کابل انتظامیہ نشانہ بنائے اسے کبھی درست قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ زلمے خلیل زاد اپنے دورہ کابل میں حمد اللہ محب جیسے امن دشمنوں کو زبان پر لگام دینے کی ہدایت کریں کیونکہ ان کی حاشیہ بردار انتظامیہ احسان فراموشی و تعصب کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے جو خطے میں امن کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔