Will do whatever it takes to prevent Iran from obtaining a nuclear bomb: says new FM of Israel

یروشلم:(اے یو ایس)اسرائیل کی نئی حکومت کے وزیر خارجہ یائر لیپیڈ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ تل ابیب تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کام اور رابطہ کاری جاری رکھے گا اور اسے جوہری اسحہ بنانے سے روکنے کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے کریں گے۔

قبل ازیں پیر کی شام اپنی ایک ٹویٹ میں وزیر دفاع بینی گینز نے بھی اسی قسم کے عہد کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی نمائندے مائیکل ریٹنی کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اپنے حلیفوں کے ساتھ اس بات کی کوشش جاری رکھے گا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

اس حوالے سے بند دروازوں کے پیچھے بات چیت جاری رہے گی”۔اسرائیل کے نئے وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے بھی گذشتہ روز یہ باور کرایا کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے واسطے وہ سب کچھ کرے گا جو اس کے بس میں ہے۔ لیپڈ نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ “برا” ہے۔

اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی کے نئے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کو مبارک باد پیش کی۔ وہ 12 سال اقتدار میں رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کی جگہ وزیر اعظم بنے ہیں۔ دونوں شخصیات نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران میں ایرانی جوہری معاہدے اور دیگر علاقائی معاملات کے حوالے سے رابطہ کاری پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔رواں ماہ (جون) کے اوائل میں امریکی وزارت دفاع نے باور کرایا تھا کہ وہ ایرانی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل کی سپورٹ جاری رکھے گا۔