Six Tribal Elders in Badghis Arrested for Aiding Taliban

کابل: حکومتی ذرائع کے مطابق صوبہ بادغیس کے مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف حصوں میں ساز باز کر کے سرکاری فوجوں کو اپنی چوکیاں طالبان کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرنے کے الزام میں صوبہ کے چھ قبائلی عمائدین کوگرفتار کیا گیا ہے۔

بادغیس کے گورنر حسام الدین شمس کا کہنا ہے کہ ان قبائلی اکابرین نے درجنوں سرکاری فوجوں کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور فوجی چوکیاں چھوڑنے کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔یہ گرفتاریاں ھکام کے اس انتباہ کے چند روز بعد ہئیں کہ جنہوں نے سلامتی دستوں اور طالبان کے درمیان ثالثی کی ہے انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔

دریں اثنا بادغیس کے مقامی حکام نے یہ بھی بتایا کہ کم از کم50فوجی جنہوں نے طالبان سے ساز باز کر کے اپنی چوکیاں طالبان کے حوالے کر دی تھیں اپنی چوکیوں پر واپس آگئے ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ ضیاءالدین اکازئی نے کہا کہ افغانستان میں یہ بڑی خراب روایت ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ لوگ آتے ہیں اور سلامتی دستوں کو تلقین کرتے ہیں کہ طالبان کے سامنے سپر انداز ہو جائیں۔ سماجی کارکن جنید اللہ اشکانی نے کہا کہ حکومت کو حکومتی نظام میں خلل ڈالنے یا خلاف ورزی کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے۔