Arrested Egyptian cleric al sheikh Muhammad Husain yaqoob denies having contacts with ISIS

قاہرہ:(اے یو ایس)مصر کی ایک عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران سرکردہ عالم دین الشیخ محمد حسین یعقوب سے، جنہیں کچھ عرصہ قبل شدت پسند گروہ ’داعش‘ کے اس دعوے کے بعد کہ وہ علامہ حسین یعقوب کے افکار اور نظریات سے متاثر ہیں گرفتار کیا گیا تھا ،پوچھ گچھ کی گئی۔

مبلغ نے “داعش امبابہ سیل” کیس سے متعلق عدالت میں اپنا بیان دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی معاملے پر فتویٰ جاری نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ حدیث یا فقہ میں مہارت نہیں رکھتے۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ اس کی ذاتی فقہی اجتہاد ہے۔ انہوں نے منبر پر 1978 میں تبلیغ دین کا آغاز کیا اور کیسٹوں کے ذریعے بھی اپنا پیغام پھیلایا۔

عدالت کے سربراہ نے مبلغ سے تکفیری اور داعش کے نظریات کے بارے میں ان سے پوچھا۔ انہوں نے داعش سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی۔جج نے کہا کہ بعض لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی آڑ میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس پر علامہ حسین یعقوب نے کہا کہ یہ سب گمراہی ہے۔ ان کا القاعدہ اور داعش کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔جب ان سے اخوان کے بارے میں پوچھا گیا کہ تو ان کاکہنا تھا کہ حسن البنا نے خلافت کے کام اور خلافت کی بحالی کے لیے اخوان کی بنیاد رکھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے سید قطب محض ایک شاعر اور ادیب تھے۔ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ان کا فقہ اور دینی علوم میں گہرائی نہ ہونے کے برابر تھی اور انہوں نے کسی مستند عالم دین سے دینی علوم نہیں سیکھے تھے۔عدالت نے سماعت 8 اگست تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔گذشتہ ہفتے قاہرہ فوجداری عدالت نے مبلغ محمد حسین یعقوب کو گرفتار کرنے کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر محمد حسان کی موجودگی کا پتا چلانے کے لیے فارنسک ثبوت اکٹھے کیے گئے تھے۔