China launches three astronauts into orbit

بیجنگ:(اے یو ایس)چین نے جمعرات کو اپنے نئے مستقل خلائی اسٹیشن کے لیے تین خلا بازوں کو خلا کے لیے روانہ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق خلائی سفر کے لیے شینزو-12 راکٹ چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے بیجنگ کے وقت کے مطابق صبح نو بج کر 22 منٹ پر روانہ ہوا۔اس مشن کے لیے 56 سالہ خلاباز نی ہائی شنگ، 54 سالہ لو بومنگ اور 45 سالہ روکی تینگ ہانگبو ‘تیان ہے’ نامی خلائی اسٹیشن میں تین ماہ گزاریں گے۔

اس مشن میں خلا باز اس عرصے کے دوران خلائی اسٹیشن کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کریں گے اور وہ اس بات کا بھی مشاہدہ کریں گے کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر طویل مدت تک خلا میں کیسے رہیں گے۔اس ضمن میں 56 سالہ خلاباز نی ہائی شنگ نے مشن پر روانہ ہونے سے ایک روز قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی مرحلے کے دوران عملے کی پہلی روانگی ہے۔

ان کے بقول، “میں اس مشن کا حصہ بننے پر خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔رائٹرز’ کے مطابق، شینزو-12 کی بیک اپ ٹیم کی رکن خلا باز وانگ ییپنگ نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ جب تک نی ہائی شنگ ہمارے دلوں میں ہیں تب تک ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔علاوہ ازیں، 45 سالہ سابق ایئرفورس پائلٹ اور خلاباز تینگ ہانگبو نے اپنے پہلے خلائی سفر شینزو-12 کے لیے منتخب ہونے سے قبل ایک دہائی سے زائد عرصے تربیت حاصل کی۔

خلا باز روکی تینگ ہانگبو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ اس خلائی مشن کے لیے گیارہ برس سے منتظر تھے اور بالآخر اب وہ تیار ہیں۔خیال رہے کہ چین کی جانب سے پانچ برس میں یہ پہلا انسان بردار خلائی مشن ہے جس میں خلابازوں کو خلا میں بھیجا گیا ہے۔اس سے قبل چین 2003 سے 2016 کے درمیان اپنے چھ انسان بردار خلائی مشن کے ذریعے 11 خلا بازوں کو خلا میں بھیج چکا ہے۔مذکورہ مشنز میں ژئیژیگینگ بھی شامل تھے جنہوں نے 2008 کے شینزو مشن میں چین کی پہلی خلائی واک بھی کی تھی۔