Federal and state budget and the public

قادر خان یوسف زئی

وفاق کی جانب سے مالیاتی بجٹ پیش کیا جاچکا، اب صوبائی حکومتیں اپنااپنا بجٹ پیش کرکے اسے عوام دوست قرار دیں گی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی بھی حکومت نے اپنے بجٹ کو عوام دوست، فلاحی اور تاریخی،ٹیکس فری بجٹ قرار نہ دیا ہو، بجٹ کے گنجلک اعداد و شمار میں الجھنے کے لئے معاشی ماہرین کے تجزیئے اس قدر ’عمیق‘ہوتے ہیں کہ عوام اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہندسوں کے اس کورگھ دھندے سے انہیں کیا سروکار، دیکھنا تو بس یہ ہے کہ ان کے گھر کا بجٹ کم آمدنی میں چل سکتا ہے کہ نہیں، کہنے کو تو اب بھی ایک کوئی ایسی مربوط منصوبہ بندی سامنے نہیں کہ ایسے مثال بنا کر سمجھا جاسکے کہ کس طرح دیرینہ مسائل کا حل نکلے گا، گو بجٹ پیش کرنے سے قبل ہی حیرت انگیز طور پر شرح نمو نے تیز ترین پرواز کی، عوام کو یقین دلایا جارہا ہے کہ مہنگائی کے ساتھ قوت خرید میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کی آرا پر متفق ہوں کہ جس طرح جی ڈی پی ایک دم نہیں بڑھتی اسی طرح کئی برسوں تک غریب عوام کی قوت خرید بھی نہیں بڑھ سکتی۔ یہ معاشی ماہرین کا استدلال ہے کہ مہنگائی کے مقابلے میں قوت خرید کا ازخود، صرف چند دنوں میں بڑھنے کا دعویٰ قطعی درست نہیں۔یہ تو سیدھا سادا حساب ہے کہ جہاں دوکروڑ افراد بظاہر کرونا وَبا کی وجہ سے بے روزگار ہوچکے ہوں، تنخواہوں میں کٹوتیاں کئی ماہ تک کی جاتی رہی ہوں، اسمال انڈسٹریز قریباََ بند ہوچکی ہو، اسمارٹ لاک ڈاؤن یا ایس او پیز کے نام پر کاروبار زندگی ابھی تک اوقات کا پابند ہو، بین الصوبائی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیاں محدود ہوگئی ہوں، سیاحت کا شعبہ زیرو پر آچکا ہو، عام اشیا کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہی ہوتا جارہا ہو، خوشیوں کے تہواروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہوں، ان حالات میں معاشی ترقی کے آکڑے سمجھ سے باہر ہیں۔ عوام تو دو جمع دو، چار کی قائل ہے کہ جب وہ مقامی دوکان جائیں تو آٹا، چینی، گھی، دالیں، گوشت خریدتے وقت انہیں احساس ہو کہ قیمتوں میں اضافہ تو نہیں ہوا لیکن پرانے نرخ پر آرہی ہیں، جب بجلی و گیس کے بھاری بھرکم بل و جرمانے بھرنے کے لئے ان کی جیب میں پیسے نکل آئیں تو یہ سوچیں کہ وہ کسی خطِ غربت سے اوپر جانے والی سیڑھی کے سوار ہوچکے ہیں۔

عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں، عوام سنہرے خواب دیکھنے کی بھی عادی ہے لیکن ڈراو¿نے خواب تو کوئی بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا، تو عوام کس طرح پ±ر فریب دعوو¿ں اور اعلانات پر یقین کرلے، یہ سمجھنے کی بات ہے، اگر سمجھی جائے۔زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ عوام سب کچھ اتنا جلدی چاہتی ہے جس طرح راتوں رات مہنگائی بڑھی، پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، بجلی و گیس بلوں میں ٹیرف و ایڈجسٹمنٹ چارجز بڑھتے ہیں۔ صبح اشیا خوردنوش کی قیمتیں کچھ اور شام تک کئی گنا بڑھ جاتی ہوں، دو کلو سستی چینی لینے کے لئے گھنٹوں لائن میں نہ لگنا پڑے تو ایسے اقدامات عام وخواص کو نظر نہیں آتے،یقین مانیں کہ عوام کی حالت اتنی پتلی ہوچکی ہے کہ انہیں 850 سی سی گاڑی کے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ختم ہونے اور ”میری گاڑی اسکیم“ میں کوئی دلچسپی ہی نظر نہیں آتی، اپنے گھر کا خواب تو سب کے ارمان ہوتے ہیں لیکن جس طرح لڑکی کا میکہ ا±س کا گھر نہیں رہتا، شوہر کا گھر اس کا سسرال کہلاتا ہے، بیٹوں کے گھروں میں والدین کا حصہ نمک برابر نہیں ہوتا، اسی طرح کم آمدنی والے لاکھوں روپوں کا قرض لے کر ا±سے ادا کریں گے یا اپنے بال بچوں کے لئے رزق حلال سے دو وقت کی روٹی پیٹ بھریں۔یہ عوام کا نوحہ ہے جس کا ماتم تک نہیں دیکھا جاتا کہ وہ کس پل صراط سے گذر رہا ہے۔ ہندسوں کے اس ہیر پھیر میں سرکاری ملازم کی تنخواہ بڑھ جاتی ہے، پینشنر کو اضافی رقم (کم سہی) مل جاتی ہے،پرائیوٹ اداروں کے ملازمین کا کیا حال ہوتا ہے، اس حقیقت کو کسی نے قریب سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کے ساتھ ٹھیکداری نظام کے تحت وہ سرمایہ دار کیا کرتا ہے، جسے سہولیات دینے کے لئے ہر حکومت ترغیبات کے نت نئے پیکجز لاتے ہیں، سوشل سیکورٹی اور ملازمت کے جاری رہنے کی یقینی و بے یقینی میں آئے روز، جینے مرنے والا محنت کش طبقے کو وہ کچھ کیوں نہیں ملتا جو قانون کے تحت ان کا پہلا حق ہے۔

مزدور کی کم ازکم تنخواہ بڑھانے والے کیا یہ نہیں جانتے کہ محنت کش کا گھرانہ دو افراد پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ خاندانی نظام کی وجہ سے کئی افراد، یہاں تک کہ بچوں و خواتین کو مل جل کر سخت محنت کرنا پرتی ہے تب جا کر ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے، محنت کش طبقات میں اگر قلم کے مزدوروں کے بات کی جائے تو کسی وفاقی یا صوبائی بجٹ میں عوام الناس کے مسائل اجاگر کرنے والے کمزور ترین طبقے کی بات کبھی نہیں کی جاتی، ان کے تحفظات کی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے، جسے قلم کا مزدور خود ہی سیلف سنسر شپ کے تحت خاموشی کو ترجیح دینا پسند کرتا ہے لیکن قلم کا مزدور ہر حکومت سے پوچھنے کا یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ ان کے حقوق کے لئے آواز کب اور کون اٹھائے گا۔ لے دے کر اوورسیز پاکستانی ہی رہ جاتے ہیں کہ وہ اپنی محنت کی کمائی اپنے عیال کو بھیجتے ہیں، کس قدر عجیب بات ہے کہ ملکی معیشت کی برآمدات سے اتنا زر مبادلہ حاصل نہیں ہوتا، جتنا تارکین وطن کی ترسیلات ِ زر کی وجہ ملتا ہے، ا±س پر کہا جاتا ہے کہ اوورسیز پاکستانی، ملکی سیاست سے نابلد ہیں۔کس شعبے میں کتنا بجٹ رکھا گیا اور کس پر اب کیوں خرچ کیا جائے گا، اس پر آنے والے دنوں میں سیر حاصل مباحث کا سلسلہ چلتا رہے گا۔زمینی حقائق کو عوام ذہن نشین کرلیں کہ آنے والا وقت اتنا آسان نہیں ہے جتنا بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس معاشرے میں کرپشن، خرد برد، غبن، لوٹ مار، وائٹ کالر جرائم فیشن بن چکا ہو، اس پر اشرافیہ اپنا حق فرض سمجھیں تو ایسے معاشروں میں تبدیلی تقاریر سے نہیں آتی۔ خواب غفلت میں رہنے سے بہتر ہے کہ ہنر مند پاکستان کی جانب قدم بڑھائیں کیونکہ یہی واحد راستہ ہے جو غریب طبقے کو دیرنیہ مسائل سے باہر نکال سکتا ہے۔