Iran says nuclear talks closer to deal

دوبئی:ایران کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدہ2015کی بحالی کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پہلی بار کوئی معاہدہ طے پاجانے کی حد تک پہنچ چکے ہیں البتہ کچھ امور ابھی ایسے ہیں جن کا تصفیہ ہونا باقی ہے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے الجزیرہ ٹیلی ویژن نے کہا کہ ہم مختلف معاملات پر ہم خیال و ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور کافی حد تک کامیابی ملی ہے نیز قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم ہمیشہ کی نسبت اس بار کسی معاہدے تک پہنچنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔بس چند ضروری امور حل طلب رہ گئے ہیں۔

واضح ہو کہ اس ضمن میں طرفین کی جانب سے اٹھائے جانے اقدامات پر غور و خوض کے لیے اپریل سے ویانا مذاکرات چل رہے ہیں جو اب چھٹے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔امریکہ 2018میں اس معاہدے سے باہر ہو گیا تھا جس کے بعد ایران نے اپنے خلاف کئی بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط پر اپنے جوہری پروگرام میں تخفیف کرنا اور اسے لگام دینا منظور کر لیا تھا۔قبل ازیں فرانس نے کہا کہ متعدد امور پر ابھی اختلافات ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق مذاکرات میں اب بھی اہم امورپر اختلافات پائے جاتے ہیں ۔

یورپی ذرائع نے بھی مذاکرات میں حصہ لینے والے ایک سفارت کارکے حوالے سے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا کہ ایران ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ امریکا کو ایک بار پھر معاہدے سے نکلنے سے روکا جائے۔یہ نکتہ پیچیدہ نکات میں سے ایک ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان زیر بحث ہیں۔ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آسٹریا کے دارالحکومت میں موجودہ مذاکرات تحریری وعدوں کو شامل کرنے کے امکان کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ادھر روس نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کی بات کہی ہے۔ روسی ایلچی برائے مذاکرات میخائیل اولیانوف نے پیش رفت کہتے ہوئے انتباہ بھی دیا کہ مذاکرات سخت ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ مشکل اور وقت طلب معاملات ابھی غیر حل شدہ ہیں۔