Iranians vote in an all but decided presidential election

تہران:(اے یو ایس)ایرانیوں نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالناشروع کر دیا اس کے ساتھ ہی یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان انتخابات کا نتیجہ ایک اس شدت پسند و سخت گیر صدر کے منتخب ہونے کی شکل میں برآمد ہوگا جو2017کے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی سے ہار گیا تھا اور گذشتہ دو سال سے ملک کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہے۔

ایرانی روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں پہلا ووٹ ڈال کر ملک میں صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ کا آغاز کیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد خامنہ ای نے اپنے ہم وطنوں پر زوردیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں بھرپورحصہ لیں اور اپنا صدر منتخب کریں۔ان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں ووٹر ٹرن آو¿ٹ اورایران پر بیرونی دباؤ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔خامنہ ای نے صدارتی انتخابات سے دوروز قبل بدھ کوایک نشری تقریرمیں کہا تھا کہ ”اگر لوگ پولنگ کے عمل میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں ہوتے ہیں تو دشمن کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔اگر ہم دباؤ اور پابندیوں میں کمی چاہتے ہیں تو لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہونا چاہیے اور نظام کو حاصل عوامی مقبولیت دشمن پر ظاہرہونی چاہیے۔“خامنہ ای نے کہا کہ تمام ایرانیوں کو اپنی اپنی سیاسی ترجیحات سے قطع نظرجمعہ کو اپنااپنا ووٹ ڈالنا چاہیے۔

انھوں نے امریکی اور برطانوی میڈیا پرالزام عاید کیا کہ ”وہ ایرانیوں کی ووٹنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی کررہا ہے اور صدارتی انتخابات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔“ایران کی شورائے نگہبان نے سیکڑوں امیداواروں میں سے صرف سات کو صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل قراردیا تھا لیکن ان میں سے بھی تین امیدوار وںسابق نائب صدر اور واحد اصلاح پسند صدارتی امیدوار محسن مہرعلی زادہ،قدامت پسند رکن پارلیمان علی رضا زاکانی اور ایران کے سابق اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعیدجلیلی نے پولنگ سے عین دو روز قبل صدارتی دوڑ سے باہرہونے کا اعلان کردیا ۔

مہرعلی زادہ نے کسی صدارتی امیدوار کی حمایت کا تو اعلان نہیں کیا ہے لیکن ان کی دستبرداری کا فیصلہ مرکزی بنک کے سابق گورنرعبدالناصر ہمتی کو فتح دلوانے کی ایک کوشش ہوسکتا ہے۔عبدالناصرہمتی کودوسرے صدارتی امیدواروں کے مقابلے میں”اعتدال پسند“ قراردیا جارہا ہے۔بعض اصلاح پسند گروپوں نے ہمتی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب زاکانی اور سعید جلیلی نے عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔رئیسی آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور انھیں اب تک سب سے مضبوط صدارتی امیدوار خیال کیا جارہا ہے۔60 سالہ ابراہیم رئیسی نے 2017 میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر وہ موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔اگر وہ ان صدارتی انتخاب میں بھی شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں تو پھر ان کا آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ رہبرِاعلیٰ بننے کا امکان معدوم ہوجائے گا۔

انھیں آیت اللہ خامنہ ای نے 2019ءمیں ایرانی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔اسی سال امریکا نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں عائد کردی تھیں۔ان پر 1980ءکے عشرے میں قتلِ عام کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عاید کیے جاتے ہیں۔مرکزی بنک کے سابق گورنرعبدالناصر ہمتی کے علاوہ ان کے مدمقابل دوسرے نمایاں امیدوارایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور مصالحتی کونسل کے موجودہ سیکریٹری محسن رضائی ہیں۔چوتھے صدارتی امیدوار رکن پارلیمان امیرحسین غازی زادہ ہاشمی ہیں۔وہ نسبتاً کم زور سیاست دان خیال کیے جاتے ہیں اور مذکورہ تینوں امیدواروں کے مقابلے میں کوئی زیادہ معروف بھی نہیں۔