Middle class worst-hit due to lockdown and ,petrol and diesel price

نئی دہلی :(اے یو ایس) ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی لگاتار بڑھتی قیمتوں سے عام لوگوں کا بجٹ بگڑ گیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد جموں شہر میں بدھ کے روز پٹرول 96.16 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 87.99 روپے فی لیٹر فروخت کیا گیا ، جو یوٹی میں اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ جموں شہر اور مضافات کے عام لوگوں کا کہنا ہے کہ کورونا کرفیو اور لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے ان کی مالی حالت پہلے ہی خراب ہو چکی ہے اور پٹرول و ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔

جموں کے پرنب نامی باشندے نے کہاکہ سرکار ہر دو ایک روز کے بعد قیمتوں میں 20 سے 25 پیسے تک اضافہ کرتی رہتی ہے اور یوں ہفتہ گزر جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 2 سے 3 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ثروت لوگوں پر اس اضافے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، لیکن متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نجی اداروں میں کام کر رہے ملازمین کیلئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ایک اور شہری راجیندر کمار نے بتایا کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف نجی گاڑیوں کے مالکان کو مالی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ بلکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے اناج ڈھونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ جس سے ضروری اشیاءکے دام بڑھ جائیں گے اور اس کا براہ راست اثرات متوسط اور غریب طبقے پر بھی نمایاں ہوں گے۔

ایک اور مقامی شہری وپن شرما نے کہا کہ جموں خطے میں ان لاک کے بعد وہ اب اپنے نجی دفاتر میں کام پر جانے لگے ہیں ، لیکن پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے ان کا بجٹ بری طرح ڈھگمگا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ماہانہ تنخواہ میں گزشتہ دو سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے اور نا ہی مستقبل قریب میں ایسی کوئی امید دکھائی دے رہی ہے اور ایسے حالات میں پٹرول کے بڑھتے ہوئے دام ان کے لئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔جموں کے پٹرول پمپوں پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پٹرول کی مانگ میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

جموں کے ایک پٹرول پمپ پر بطور سیلزمین کام کرنے والے راجیندر کمار نے بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگ اب کم مقدار میں پٹرول خریدتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص پہلے پٹرول پر 500 روپے صرف کرتا تھا وہ اب بھی 500 روپے کا ہی پٹرول خریدتا ہے۔ اس طرح قیمت بڑھ جانے کے بعد پٹرول پمپ مالکان پہلے کے مقابلے میں کم مقدار میں پٹرول کی فروخت کر پا رہے ہیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں عام لوگ چاہتے ہیں کہ سرکار پٹرول اور ڈیزل کے دام اعتدال پر رکھنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے تاکہ عام لوگوں کو راحت ہو۔