Coronavirus: Danger still persists

سہیل انجم

تقریباً تین ماہ کے بعد ہندوستان میں کورونا کے مثبت معاملات کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے اور جس طرح روز بہ روز تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید اب وائرس کا حملہ مزید کمزور ہوگا اور متاثرین کی تعداد میں دن بہ دن تخفیف ہوتی جائے گی۔ تعداد میں کمی کے پیش نظر مختلف ریاستی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو بتدریج نرم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں بھی اب مزید سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے ختم ہونے سے ملک میں ٹھپ پڑ جانے والی اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں بھی از سرنو شروع ہو جائیں گی اور جو لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگاری کی مار جھیل رہے ہیں ان کو دوبارہ ان کا روزگار واپس مل جائے گا اور گزشتہ سال کے ملک گیر لاک ڈؤون کے بعد جو لوگ بدحال ہو چکے ہیں ان کی بدحالی میں بھی کمی آئے گی۔

لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رنجیت گلیریا نے ایک بیان میں یہ وارننگ دی ہے کہ اگر لوگوں نے کوویڈ گائڈ لائن کی پابندی نہیں کی یعنی ماسک لگانا چھوڑ دیا اور بھیڑ بھاڑ میں گھسنا شروع کر دیا تو ایک بار پھر ملک میں کورونا کی وبا پھیل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے معاملات میں کمی کے باوجود ہمیں بد احتیاطی نہیں کرنی ہے اور وبا کے نقطہ¿ عروج کے وقت جن احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جا رہا تھا ان کو اب بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ احتیاطی تدابیر صرف ان کے لیے ہی ضروری نہیں ہے کہ جنھوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے بلکہ ان کے لیے بھی ضروری ہے جنھوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لے لی ہیں۔ ان کو بھی ماسک لگانا ہے۔ بھیڑ بھاڑ سے بچنا ہے۔ بار بار صابن سے ہاتھ دھونا ہے اور سینی ٹائزر کا استعمال کرنا ہے۔ ڈاکٹر گلیریا کے مطابق اگر احتیاط نہیں کی گئی تو دو ماہ کے بعد تیسری لہر بھی آسکتی ہے اور وہ ممکن ہے کہ کہیں زیادہ خطرناک ہو۔

گزشتہ دنوں دہلی میں ماہرین کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں تیسری لہر کے امکانات پر غور کیا گیا۔ میٹنگ میں مرکزی حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے دہلی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بتایا کہ اگر احتیاط کا دامن چھوڑ دیا گیا تو دہلی میں اگلے سال فروری مارچ میں وبا کی ایک اور لہر آسکتی ہے۔ ڈاکٹر گلیریا کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں طویل مدت تک لاک ڈو¿ن کے باوجود کورونا کی ایک نئی قسم ڈیلٹا ویرینٹ کا پایا جانا ہمیں تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔ خیال رہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ کو بہت خطرناک قرار دیا گیا ہے اور کئی ملکوں میں یہ نئی قسم پائی گئی ہے اور ان ملکوں کی حکومتیں تدارکی تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔ گلیریا کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا ویرینٹ کا پایا جانا دو اسباب سے باعث تشویش ہے۔ ایک تو یہ کہ ہندوستان میں بھی یہ قسم موجود ہے اور دوسرے یہ کہ برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ جبکہ ہندوستان میں ابھی اتنے زیادہ لوگوں کو ویکسین نہیں لگائی جا سکی ہے۔ اس نئی قسم کی خطرناک بات یہ ہے کہ یہ دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو انفکٹیڈ کرتی ہے یعنی یہ بہت جلد دوسروں کو متاثر کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس نئی قسم سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دو تین مہینے بہت ہی اہم ہیں۔اسی درمیان حکومت نے ویکسین لگانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور اب تک تیس کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جن میں سے ایک بڑی اکثریت کو دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں۔ لیکن چونکہ ہندوستان کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے لہٰذا تمام آبادی کو ویکسین لگانے میں کافی وقت لگے گا۔ ویکسین کی قلت اس وقت کو اور بڑھا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے دوسری ویکسینز بھی شروع کی جانے والی ہے۔ لیکن ملکی آبادی کے پیش نظر ویکسین کا عمل کافی وقت طلب ثابت ہوگا۔

لہٰذا عوام کو بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرونا وائرس اپنی ہئیت بدلنے میں ماہر ہے۔ وہ اب تک اپنی جانے کتنی شکلیں تبدیل کر چکا ہے۔ ابھی تو سب سے خطرناک ڈیلٹا قسم ہے۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگر ہم اس پر بھی قابو پا لیں تو کوئی دوسری قسم سامنے نہیں آجائے گی۔ چونکہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ یہ وائرس کوئی ذی روح یا جاندار وائرس نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک سائنسی وائرس ہے اور جیسا کہ امریکہ کا شبہ ہے کہ یہ چین کے کسی لیب سے لیک ہوا ہے لہٰذا اس پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ کسی بے جان چیز کو مارنا کسی جاندار کو مارنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔لہٰذا ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ کرونا ابھی جانے والا نہیں ہے۔ ابھی سال دو سال ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ لہٰذا ہمیں احتیاطی تدابیر کو اپنی عادت میں شامل کر لینا چاہیے۔ لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کی پابندیوں میں ڈھیل دیے جانے کے بعد عوام نے احتیاطی تدابیر میں بھی ڈھیل دینی شروع کر دی ہے۔ اب بازاروں میں ایک بار پھر بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ رہنے لگی ہے اور بازار میں موجود اکثر لوگ مناسب انداز میں ماسک نہیں لگاتے۔ کسی کا ماسک ناک کے نیچے ہے تو کسی کا ہونٹوں کے نیچے تو کسی کا ٹھوڑی کے نیچے۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے ماسک کو بالکل درست انداز میں ناک اور منہ پر لگایا جانا چاہیے اور اس انداز میں اسے لگایا جائے کہ اگر آپ کھانسیں یا چھینکیں تو لعاب کے ذرات باہر نہ جائیں اور اسی طرح اگر کوئی دوسرا کھانسے یا چھینکے یا تھوکے تو اس کے لعاب کے ذرات آپ کی ناک یا منہ تک نہ پہنچ سکیں۔

لیکن اس کا خیال رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ عام طور پر لوگ درست انداز میں ماسک نہیں لگاتے اور بہت سے لوگ تو ماسک ہی نہیں لگاتے۔ سینی ٹائزر کا استعمال بھی اب بہت کم کر دیا گیا ہے اور صابن سے بار بار ہاتھ دھونا تو لوگوں نے چھوڑ ہی دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ بہت احتیاط کر لی کتنی کریں۔ جو ہونا ہوگا ہو جائے گا۔ اس قسم کے خیالات تباہی کو دعوت دینے والے ہیں۔ ابھی ہم نے دوسری لہر کی تباہ کاری فراموش نہیں کی ہے۔ کیا لوگ یہ بھول گئے کہ کس طرح اسپتالوں میں بیڈ، آکسیجن اور دواو¿ں کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ کیا دریائے گنگا و جمنا میں تیرتی لاشیں لوگ بھول گئے۔ دریاو¿ں کے ساحل پر راتوں رات ابھر آنے والی وہ قبریں لوگ فراموش کر چکے جن کے اوپر بھگوا رنگ کی چادریں ڈال دی گئی تھیں اور جنھیں پولیس والوں کی جانب سے ہٹا دیے جانے کے بعد بہت سی لاشیں اوپر آگئی تھیں۔ کیا شمشانو ںمیں دو دو گز کی دوری پر جلنے والی چتاو¿ں کی خوفناک تصاویر کو بھی لوگوں نے ذہنوں سے محو کر دیا ہے۔ کیا قبرستانوں میں قبروں کی روز بہ روز بڑھتی تعداد بھی لوگ بھول گئے۔ جس طرح لوگ آکسیجن سلنڈروں کی خاطر در در بھٹک رہے تھے اور چھ ہزار کا سلنڈر ستر اسی ہزار روپے میں خریدنے پر مجبور تھے، یہ سب باتیں ہوا ہو گئی ہیں۔ مانا کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے وہ بہت جلد ہر چیز بھول جاتے ہیں لیکن یہ واقعات گزرے تو ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے۔ اتنی جلد کیسے لوگوں نے یہ سب فراموش کر دیا؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر چہ لاک ڈاو¿ن کی سختیاں کم کی جا رہی ہیں اور بازار اور مارکیٹ کھولے جا رہے ہیں، لیکن ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا ہے۔ اگر ہم نے ایک بار پھر لاپروائی شروع کر دی تو یاد رکھیں کہ کورونا کی کسی سے دوستی نہیں ہے۔ وہ پھر لوٹ کر آئے گا اور ہمارے اوپر اس طرح حملہ آور ہوگا کہ ہم اس بار اس سے بچاو¿ کی کوئی صورت اختیار نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ ہوشیار رہیں اور ماہرین کی باتوں پر عمل کرکے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے گریز کریں۔
sanjumdelhi@gmail.com