Understanding Pakistan’s overtures for peace with India; is China the elephant in the room?

لندن : درس و تدریس ، صحافت اور سفارت کاری کے شعبوں کے بین الاقوامی شہرت کے مالک ماہرین کے ایک پینل نے حال ہی میں لندن میں منعقد ایک ورچوئل سمینار میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی امن مساعی اور دوستانہ تعلقات کے آغاز کے لیے محرکات اور تاریخی پس منظر اور اس تناظر میں چین کے کردار پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔

یو کے میں قائم دی ڈیموکریسی فورم (ٹی ڈٰی ایف) کے زیر اہتمام ہونے والے اس ویبنار میں ٹی ڈی ایف کے
چیرمین لارڈ بروس نے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل باجوا کے اس بیان کی روشنی میں ، جس میں انہوں نے فروری میں کہا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ پر امن بقائے باہم و احترام کے تصور کا عزم کیے ہے،اپنے خیالات کا اظہار کیا۔لارڈ بروس نے کہا کہ ہند پاک تعلقات کی راہ میں طویل عرصہ سے حائل فوجی تعطل میں بتدریج کمی لانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں ۔لارڈ بروس نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں علاقائی امن اور بہتر تعلقات کے لیے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات میں بہت کوششیں کی گئیں، لیکن اس بار نوعیت مختلف نظر آرہی ہے۔کیونکہ پاکستان کی امن مساعی اس کے مسلسل تنہا پڑ جانے سے اس کے کمزور پڑجانے کی عکاسی کرتی ہے اور جنرل باجوا اب فوجی اغراض و مقاصد سے زیادہ اقتصادیات پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہیں۔لارڈ بروس نے مزید کہا کہ پاکستان میں زبردست چینی سرمایہ کاری اور چین کے اس کے اوپر قرض کے بوجھ کے پیش نظر ہمیں پاکستان کی ہند پالیسی کی تدبیروں اور کوششوں کے بارے میں گہری نظر وبصیرت سے کام لینا ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار، مصنفہ اور ایس او اے ایس ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف لندن میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے تین کلیدی امور ، ہندوستان اور پاکستان کے مابین امن کی صورت حال، چین پاکستان تعلقات کی نوعیت اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی بھی امن مساعی میں چین کے نظریہ کے متوقع عمل دخل پر روشنی ڈالی۔ جنرل باجوا کی دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تبدیلی کی باتوں کے حوالے سے صدیقہ نے کہا پاکستان کی فوجی و غیر فوجی ” مخلوط حکومت“ کی تصویر،جس میں غیر فوجی حکومت کے فیصلے فوج کرتی ہے ردعمل اور نتائج کے لیے کچھ ذمہ داریاں لے گی، مشاہدین کے لیے غیر واضح اور دھندلی ہو جائے گی اور وہ حیران و پریشان رہیں گے کہ کون کیا کر رہا ہے۔صدیقہ نے مزید کہا کہ خود فوج میں اس بات پر اختلاف ہے کہ ہندوستان کے ساتھ امن کے معاملہ میں پاکستان کا موقف کیا ہونا چاہئے اور ضرورت ایسی منظم سچائی کی ہے جس میں جنگ کا امکان بہت کم ہوجائے۔پاکستان میں چین کے کردار کے حوالے سے صدیقہ نے کہا کہ پاکستان چین اور امریکہ دونوں سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اگر ہند پیسیفک کی کوئی گنجائش ہے پاکستان اس گنجائش کا فائدہ اٹھانا چاہے گا اور اس سے باہر نہیں جائے گا۔اگر پاکستان جغرافیائی سیاسی مرکز بنتا ہے تو اس کے سیاسی اداروں میں درستگی لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے امن ضروری ہے لیکن جہاں فوجی افسران بالا اسے سمجھتے بھی ہیں وہیں ان کے لیے اس کا تصور کرنا بھی سخت دشوار ہے۔

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں جنوبی و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر اور پاکستان کے سابق سفیر متعین امریکہ حسین حقانی نے اس پر جسے وہ پاکستان کے ”جنون ہندوستان“ کہتے ہیں روشنی ڈالی کہ چین نے ضرورت پر کام آنے والے دوست کا روپ دھار کر کس طرح پاکستان کو ہندوستان کے تئیں ثانوی رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا ہے ۔حسین حقانی نے مزید کہا کہ چین ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں چاہتا ، وہ ہندوستان کے ساتھ تجارت جاری رکھنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا تجارتی حجم پاکستان کے مقابلہ کہیں زیادہ ہے ۔لیکن وہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کا قومی سطح پر یہی بیان اور نظریہ سامنے آتا رہے کہ وہ ہندوستان کو ایک بیرونی خطرہ سمجھتا ہے اور اس خطرے اور نظریہ کو پاکستان کے ساتھ طویل سرحد پر ہندوستانی فوج کی موجودگی اور کشمیر میں اس کی وسیع پیمانے پر تعیناتی و کارروائی مزید تقویت پہنچاتی ہے۔ اور ایسی صورت حال کے بغیر ہندوستان جنوب ایشیا کے بجائے باقی ایشیا میں مزید فوجی وسائل وقف کر سکتا ہے۔

حقانی نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی امن کوششیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب ملک کے رہنماؤں کو یہ احساس ستانے لگا کہ انہیں چین کے علاوہ بھی دوستوں کی ضرورت ہے ۔بیشتر رہنماؤں نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ ہندوستان کو دونوں ممالک کے درمیان معرض التوا میں پڑے تناز عات کے قطع نظر مستقل للکارتے رہنے کے بجائے اس کی جانب دست دوستی دراز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ چین نے ، جو پاکستان کے اندر شدت پسندوں کو اکساتا رہتا ہے اور ملک کو ساکت و جامد رکھنا چاہتا ہے، پاکستان کو تحفظ دیے بغیر، مثال کے طور پر کرگل جنگ میں چینیوں نے پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی،
پاکستان کے اس تصور کا خوب فائدہ اٹھایا ہے کہ ہندوستان ایک مسلسل خطرہ ہے۔

کنگز کالج لندن میں ڈپارٹمنٹ آف وار اسٹڈیز میں وزیٹنگ پروفیسر اور سابق برطانوی سفارت کار ٹم ویلاسی ویلسی ہندوستان، چین اور پاکستان کے درمیان پیچیدہ سہ رخی تعلقات کو سمجھتے ہیں کہ یہ قیاس کرلینا کتنا سہل ہے کہ کشمیر ، افغانستا ن، ہمالیائی سرحد سے متصل، اقصائے چن،شین جیانگ ،تبت ،دہشت گردی کا استعمال اور نیوکلیائی میزائلوں کی موجودگی کے پیش نظر اس کا نتیجہ تباہ کن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک نام نہاد نئی سرد جنگ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔تاہم ویلسی نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ تینوں ممالک کے مفادات اسی میں مضمر ہیں کہ حالات قابو سے باہر نہ ہوں ۔مثال کے طور پر ہندوستان جب چین اور پاکستان کے سامنے خود کو بیک وقت کمزور صورت حال میں دیکھے گا تو اسے دھچکا پہنچے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اگر ہندوستانی معیشت ہ سنبھالنی ہے، جو ان کا اصل مقصد ہے، تو انہیں آج بھی چین کی ضرورت ہے۔اپنی جانب سے چین اپنی ہمالیائی سرحد کی نزاکت اور اس امکان کو تسلیم کرتا ہے کہ مغرب اس کے دو نہایت کمزور صوبوں کو پھر سے مضبوط کرنے کے لیے ہندوستان کے راستے ا س سرحد کو استعمال کر سکتا ہے۔اور پاکستان ،اگرچہ چین کے ساتھ سدا بہار شراکت کا پابند ہے ،پھر بھی وہ چین کو واحد اہم اور بڑاحلیف بنا نے کا خواہاں نہیں ہے اور یہ بھی نہیں چاہتا کہ محکوم ملک بن کر رہے۔