Citizens in Various Provinces Take Up Arms to Fight Taliban

کابل: ملک گیر پیمانے پر طالبان کی مسلح کارروائیوں کے درمیان مختلف صوبوں کے لوگوں نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔ شمال میں تخار، بلخ اور بغلان میں، مغرب میں بداغیس کے اور وسطی افغانستان میں پروان کے رہائشیوں نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ ان صوبوں میں عوامی مزاحمتی دستوں کے کمانڈروں نے کہا ہے کہ حکومت وقت کے قبضہ سے نکلے علاقوں کی بازیابی میں وہ افغان سلامتی دستوں کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

کچھ سیاست دانوں نے کہا کہ موجودہ حالات اور وقت کے تقاضہ سے مجبور ہو کر عوام نے ملک کے دفاع میں طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں۔تخار میں طالبان نے کم از کم 10اضلاع پر حملے کیے ۔ اب کچھ رہائشیوں نے صوبے کے نامک آب ، رستاق اور کلافگن شہروں میں زبردست حملوں کی تیاری میں طالبان کے خلاف جنگ میں سلامتی دستوں کا ساتھ دینے کے لیے ہتھیار سنبھال لیے ہیں۔

ایک سابق مجاہدین کمانڈر جنرل نجیب اللہ نجیب نے کہا کہ سابق مجاہدین کمانڈرز ، سلامتی دستے، پولس سربراہ، فوجی سررباہ ، گورنر اور دیگر تخار میں موجود ہیں اور مختلف علاقوں میں لوگوں کوتعینات کیا جا رہا ہے۔ تخار میں مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ طالبان نے رستاق، کفلگن، ورساج، فرخار اور تعلقان شہر کے حکومت اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔