A Pakistan army officer caught by Afghan Intel Agency in Paktia

کابل:پاکستان کی دہشت گردانہ عزائم اور سازش اس وقت ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی جب افغانستان کے صوبہ پکتیا میں اس کا ایک فوجی افسر طالبان کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے پکڑا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس پاکستانی فوجی افسر کو افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس) نے پکتیا کے داند پتن ڈسٹرکٹ میں پکڑا۔ اس کے پاس سے جو حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا اس کا نمبر 13503-6334202-7ہے۔ اس کو گرفتار ی کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا گیا جن کے استفسار پر اس نے افغان سلامتی دستوں خلاف جنگ میں طالبان کے ساتھ لڑنے اور ملک میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے افغانستان بھیجے جانے کا اعتراف کیا۔

اسواکا نیوز کے مطابق اس کی شناخت عظیم اختر ولد محمد عارف کے طور پرکی گئی ہے۔اس نے بتایا کہ اس نے ڈیڑھ سال تک فوجی تربیت حاصل کی ۔اس نے مزید بتایا کہ اسے جہادیوں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے کشمیر بھیجا گیا وہاں سے اسے پشاور بھجا گیا اور پھر پارا چنار بھیجا گیا جہاں مجھے ایک فوجی اڈے پر رکھا گیا جہاں طالبان بھی موجود تھے۔چند روز بعد پاکستانی عہدیداروں نے اس سے کہا کہ سرحد پار اور بھی پاکستانی افسران ہیں جہاں وہ ان کے اور طالبان کے ساتھ لڑے گا۔

واضح ہو کہ پاکستان پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ طالبان کی مدد کر رہا ہے اور انہیں اپنے مفاد میں اپنا آلہ کا ر بنایا ہوا ہے۔افغانستان کافی عرصہ سے پاکستان پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان کو پناہ دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک تجزیاتی نگراں ٹیم نے طالبان پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والی1988 پابندیاں کمیٹی کواپنی2019کی رپورٹ میں بتایا تھا پاکستان مقیم لشکر طیبہ کے تقریباً5ہزار انتہاپسند افغانستان کے کنار اور ننگر ہار میں ہی موجود ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں ایک سابق پاکستانی سنیٹر نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں اپنی اجارہ داری اور غلبہ کے لیے طالبان کو اپنا آلہ کار بنایا ہوا ہے۔