Shia Central Waqf Board member Wasim Rizvi accused of rape

لکھنؤ: شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی جوہمیشہ اپنے بے تکے اور متنازعہ و دل آزار بیانات سے سرخیوں میں رہتے ہیں اس بار ایسے معاملہ میں میڈیا کی زینت بنے ہیں جس سے اگر ان کے خلاف لگایا گیا الزام ثابت ہو گیا تو انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ اس بار معاملہ کافی سنجیدہ ہے۔

رضوی پر انہی کے ڈرائیور کی بیوی نے جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے ۔ اس خاتون نے لکھنؤکے سعاد ت گنج پولیس اسٹیشن میں بھی اس سلسلے میں شکایت درج کرائی ہے۔اس خاتون کا الزام ہے کہ وسیم رضوی اکثر کسی نہ کسی کام کے بہانے اس کے شوہر کو باہر بھیج کر اس کی آبرو ریزی کرتے تھے۔

اس نے مزید کہا کہ کئی بار جب اس نے مزاحمت کی اور انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کو کہا تو رضوی اس کو فحش ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔لیکن جب پانی سر سے اونچا ہو گیا تو اس نے11جون کو اپنے شوہر کو آپ بیتی سنائی۔اس پر اس کا شوہر رضوی سے بات کرنے گیا تو وہاں اسے ننگا کر کے پیٹا گیا۔

ڈراﺅیر کا کہنا ہے کہ چھ ماہ سے اس کی بیوی سے جنسی زیادتی کی جارہی ہے۔متاثرہ کے وکیل نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ان کی موکلہ کو انصاف ملے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وسیم رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔ دوسری طرف وسیم رضوی نے اس کی تردید کی ہے۔رضوی کا کہنا ہے کہ ڈرائیور مخالفین سے ساز باز کر کے میری تمام مصروفیات ان تک پہنچاتا تھا۔

اس لیے کچھ دن پہلے اپنی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ڈرائیور کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ اور اسے رہنے کے لیے جو مکان دیا تھا اسے خالی کرالیا تھا۔اسی وجہ سے میرے مخالفین کی ایماءپر میرے خلاف ڈرائیور کی بیوی نے جھوٹ الزام لگایا ہے۔