Egypt detains female TikTok star after human trafficking conviction

قاہرہ: مشرق وسطیٰ کے ملک مصر کی عدالت نے فوجداری مقدمے میں دو معروف خاتون ٹک ٹاکرز سمیت مجموعی طور پر 5 ٹک ٹاکرز کو ملک میں فحاشی پھیلانے اور انسانی اسمگلنگ کے جرم میں قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔مصری ویب سائٹ ’المصری الیوم‘ کے قاہرہ کی عدالت نے نوجوان ٹک ٹاکر حنین حسام اور مواضہ العظام سمیت دیگر تین خواتین کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے حنین حسام کو 10 سال جب کہ مواضہ العظام کو دیگر تین خواتین کے ہمراہ 6 سال قید کی سزا سنائی جب کہ تمام ملزمان کو 2 لاکھ مصری پاؤنڈ جرمانے کی سزا بھی دی گئی۔اسی حوالے سے مصری ویب سائٹ ’اجیپٹین اسٹریٹس‘ نے بتایا کہ تمام ٹک ٹاکرز کو ابتدائی طور پر گزشتہ برس جولائی میں گرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا اور بعد ازاں ان کے خلاف ملک میں فحاشی پھیلانے، لڑکیوں کو آن لائن جنسی لذت فراہم کرنے کے لیے للچانے و ورغلانے اور انسانی اسمگلنگ جیسے الزامات کے تحت قانون کارروائی شروع کی گئی تھی۔یہ لوگ لڑکیوں کا استحصال کرتے تھے اور ان کی قابل اعتراض حالت کی ویڈیو بنا کر پیسوں کے لیے لوگوں کو ویڈیو بھیجا کرتی تھیں۔

حسام قاہرہ یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور ٹک ٹاک پر اس کے 9لاکھ فالوورز ہیں۔ اس کو پہلی بار اپریل2020میں ایک ویڈیو پوسٹ کرنے پرگرفتار کیا گیا تھا۔اس ویڈیو پوسٹ میں اس نے اپنی خاتون فالوورز سے کہا تھا کہ وہ ایک دوسرا ویڈیو شیرنگ پلیٹ فارم ”لائیکی“ جوائن کر لیں جس پر وہ ویڈیو اپ لوڈ کر کے خوب پیسہ کما سکتے ہیں۔