Herat province:130 Taliban members join peace process in Herat: Officials

کابل: حکومتی ذرائع کے مطابق 130طالبان کے ایک گروپ نے مغربی صوبہ ہرات میں ہتھیار ڈال کر امن عمل میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ گروپ ہرات صوبہ کے زیر کوہ ضلع میں سر گرم تھا۔

گروپ کے لیڈر مردان نور زئی نے کہا کہ ملک سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے ساتھ ہی جہاد ختم ہو جائے گا اور پھر ہم ملک کی فوج سے کوئی جنگ جاری نہیں رکھیں گے۔صوبائی گورنر عبد الصبور قانے نے کہا کہ امن عمل میں ان لوگوں کی شمولیت سے زیر کوہ اور شینداند اضلاع میں سلامتی کا ماحول سدھر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو طالبان کے خلاف جنگ میں سلامتی دستوں کی مدد کرنے کے لیے زیر کوہ واپس بھیجا جائے گا۔طالبان نے فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس ضمن میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کے کچھ حصوں خاص طور پر افغانستان کے شمال میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

جمعرات کے روز ذرائع نے اس امر کی تصدقی کی کہ گذشتہ شب سے چھ ضلع مراکز طالبان کے قبضہ میں چلے گئے۔ان میں فریاب کے دو اضلاع قرم قل اور گریزوان ہے، اروزگان میں چرچینو ضلع ہے ، بلغان میں طلع و برفاک ہے، لوگار میں ارضا اور غزنی میں کڑا باغ ہے۔