Do not turn Parliament into Boxing or Dast wa gareiban ring

قادر خان یوسف زئی

جب اختلافات عدم برداشت سے تجاوز کرتے ہوئے تشدد میں داخل ہوجائیں تو اس امر کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کہ اپنے نظریات کے تبادلے میں احترام، افہام و تفہیم اورعدم توازن کی وجوہ کو تلاش کیا جائے۔ پارلیمان اس حوالے سے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں متنوع مزاج شخصیات کسی بھی موضوع پر مکالمہ کرسکتی ہیں، جمہوریت کی روح کے مطابق مقرر کو سننے والوں کے درمیان اصولوں کا احترام کرتے ہوئے شائستہ انداز کو سرانجام دینا چاہیے۔ ٹاک شوز کے دوران شرکا کے دست و گریبان ہونے سے مضر اثرات نچلی سطح تک منتقل ہوجاتے ہیں۔ مختلف نقطہء نظر، جذبات، نظریات، خیالات کو ابلاغ میں اس طرح پہنچانا کہ اسے س±نا اور پرکھا بھی جاسکے، بات چیت یا پھر تقاریر کے دوران منتقل کردہ پیغام معاہدوں یا تنازعات کو طے کراسکتے ہیں۔عام معاشرتی اقدار میں سماجی رویوں سے ہٹ کر پارلیمانی سیاست میں شعور و بلوغت کاہونا ضروری ہے کہ کیا ایسے رہنما کسی قوم کی قیاد ت کے اہل بھی ہیں کہ نہیں، جو اپنے قول و فعل پر قابو نہیں پاسکتے، انہیں اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے دلائل سے زیادہ توہین آمیز رویہ و سخت لب و لہجے کی ضرورت پڑتی ہے یا قصداََ وہ ایسا عمل اختیار کرتے ہیں تاکہ مخالف اصل موضوع سے ہٹ جائے اورویسا ہو کہ جیسا وہ چاہتا ہے۔ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ تنقید، بحث و مباحثہ کو بے معنی بنانے کے لئے مخصوص حکمت عملی اختیار کرکے ماحول جذباتیبنا دیا جاتا ہے۔سمجھنا ہوگا کہ دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگوں کا اختتام بھی مذاکرات سیہوتا ہے، امن اور مفاہمت کے لئے طاقتور بھی بقائے باہمی کو تلاش کرتا ہے کیونکہ وہ بھی سر تسلیم خم کرتا ہے کہ معاشرتی، سیاسی،اور معاشی شعبوں میں ہونے والے اقدامات کا حل مکالمہ ہی ہے۔ باہمی مکالمہ سیاست جمود سے باہر نکلنے کے لئے ایک بہترین راستہ ہے۔ اسے اپنانے کی ضرورت ہے، لیکن پہلے صاحب اختیار کو ایسا ماحول بنانا ہوگا، جس میں باہمی مکالمہ کی ہر نوع اقسام پر مثبت و سیر حاصل نتائج مل سکیں۔بجٹ اجلاس کے دوران ایک ایسا تاریک باب رقم ہو چکا کہ جس کے داغوں کو مٹانے کے لئے فریقین کو ہی محنت کرنا ہوگی۔ تاہم اس وقت موضوع یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں مکالمہ جمہوریت کے لئے مثبت راہ اپنا نے میں ضد و اَنا کوختم کرسکتے ہیں کہ نہیں۔

عوام اپنی کرم خوردہ حالت کی وجہ سے شدید ذہنی خلفشار و تناو¿ کا شکار ہے، اب وہ آئے روز سیاسی جماعتوں کے اکھاڑوں میں اک دوسرے کو پچھاڑنے والی روایات سے بدظن ہوچکے ، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا اور انہیں اپنے مسائل کا ذمہ دار، ایک نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتیں نظر آنے لگی ہیں، باالفاظ دیگر اپنے مسائل و پریشانیوں کی جڑ قریباََ تمام سیاسی جماعتوں کو زیادہ سمجھنے جانے لگا ہے، اس کا واضح مطلب یہی لیاجاسکتا ہے کہ انہیں جمہوریت کی اس قسم کے موجودہ نظام میں کسی ترقی کی رمق نظر نہیں آرہی۔ پارلیمان میں اکثریتی نمائندگی کا مطلب بھی ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ روایات کو زمین بوس کرتے چلے جائیں۔ موجودہ حکومت اپنی اقتدار کی نصف مدت مکمل کرچکی ، حزب اختلاف اقتدار کی کرسی کو گرانے کے لئے مشق ناتمام میں ناکام ہی اسی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان کا بیانیہ ہی نہیں بلکہ باہمی مکالمہ بھی ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتا تھا، سیاسی کارکنان تو اپنی جماعت کے ساتھ کسی نہ کسی صورت جڑے ہی رہنا ہے لیکن اصل قوت وہ خاموش عوام ہیں جو حالات و واقعات کے سامنے بے بسی کی مایوس تصویر بن چکے ہیں۔مملکت کسی نئے نظام یا انقلاب کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لئے اس عبوری دور میں ہی تبدیلی کے لئے ایسی اصلاحات کو سامنے لانا ہوگا جو قوم کی ترقی کی راہ ہموار کرسکے۔ تبدیلی کا پہلا قدم انتخابی اصلاحات ہے۔ جب تک اس امر کا تعین نہ ہوجائے کہ آنے والی کوئی بھی حکومت سیلیکٹ نہیں بلکہ الیکٹ ہوئی، یقین کئے بغیر عوام کی توقعات پر کوئی بھی پورا نہیں ا±تر سکتا، مہنگائی اور افراط ِ زر کے اعداد و شمار ہر دور حکومت میں تبدیل ہوتے رہے، لیکن قیام پاکستان کے بعد سے آج تک ایسا نہیں ہوا کہ مہنگی ہونے والی ہر قسم دوبارہ اپنی اصل قیمت پر آئی ہو۔خوراک سے لے کر زہر تک ہر شے کی قیمتوں نے آسمان کو چھوا کیونکہ ہر نئی حکومت میں اشیا ضروریہ کی قیمت گراں ہوتی ہے، اس لئے عمومی تاثر یہی نظر آتا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے عوام کو زیادہ ریلیف دیا، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ہر دور میں پچھلی حکومت کے مقابلے میں گرانی ہوئی، قوت خرید متاثر ہوئی اور تین فیصد طبقے نے بزور طاقت 97 فیصد عوام پر حکمرانی کرکے اپنی تجوریاں بھریں۔جو دور جیسا تھا، گذر گیا اور گزرتا جائے گا، وقت کبھی کسی کے لئے نہیں رکا اور نہ رکتا ہے۔ وقت اقوام کو مہلت ضرور دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں۔

عوام کا باحیثیت وطنیت ایک متفقہ ایجنڈے پر آنا ناگزیر ہے، کیونکہ وہ ہی اپنے منتخب نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، یہ موقع انہیں پانچ برسوں میں صرف ایک بار ملتا ہے، جب کہ پارلیمان میں بیٹھے نمائندوں کو قوم کی حالت بدلنے کا موقع سال کے 365 دنوں دستیاب ہوتا ہے۔ اس لئے حقیقی معنوں میں اپنا نمائندہ بنانے کے لئے ا±ن نظریات کو پرکھنا ہوگا کہ کیا وہ خود بھی درست راستے پر ہیں۔ درست سمت کا انتخاب ہی وہ مرحلہ ہے جو آنے والی نسلوں کی آبیاری کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرتا ہے۔شومئی قسمت تمام لسانی اکائیوں میں اب بھی مکالمہ کی گنجائش موجود ہے، اوطاق، پنچائت حجرہ اور سماجی نشستوں جیسی ثقافتی اقدار ہمارے معاشرے سے ابھی ختم نہیں ہوئی، اس ضمن میں ہر لسانی اکائی کو قوم کی نشا? ثانیہ کے لئے غور وفکر کو اپنانا ہوگا۔ یہی عمل سیاسی جماعتوں کو اپنے فروعی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنانے کی ضرورت ہے۔پارلیمان میں جب تقاریر پر مفاہمت ہوسکتی ہے تو قومی مفاد عامہ کے لئے مثبت اصولوں پر مفاہمت کرنے میں کیا قباحت ہے۔ مشترکہ ایسا ایجنڈا اپنایا جاسکتا ہے جو قومی مفاد کے خاطر تما م ا سٹیک ہولڈرز کے لئے قابل قبول ہو، یہ کوئی مشکل امر نہیں کہ اس پر عمل پیرا نہ ہوا جاسکے، باہمی مکالمے کے اصول پر عمل کرتے ہوئے برداشت کا مادہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ مکالمہ جمہوری دور کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ وقت اس طرح گذر جائے کہ مل بیٹھنے کو بہانہ نہ ملے، آگے بڑھنے میں پہل ہی قوم و ملک کے مفاد میں ہے۔