J&K to become state again 'at right time', PM

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کی ریاست کی حیثیت بحال کر دی جائے گی لیکن انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام پارٹیوں کو حد بندی اور اسمبلی حلقوں کی نو تشکیل پر رضامند ہونے کی بھی تلقین کی تاکہ انتخابات کرائے جا سکیں۔

جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سے تین گھنٹے کی ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے دلی کی دوری اور دلوں کی دوری ختم کرنے کہا اور اپنے وعدے کا اعادہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ مناسب وقت پر ریاست کا مکمل درجہ بحال کر دیا جائے گا۔ 2019میں آئین کی دفعہ370کی تنسیخ کے تحت ریاست کی خصوصی حیثیت ختم ہوجانے اور ریاست کا درجہ ختم کرکے اسے جموں و کشمیر اور لداخ نام سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی کم حیثیت والا رتبہ دینے کے بعدخطہ میں سیاسی عمل کی بحالی کے مقصد سے طلب کیے گئے اس اجلاس میں جموں و کشمیر کے 14سیاسی رہنماؤں بشمول چار سابق وزرا اعلیٰ نے شرکت کی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حد بندی ہونے کے فوری بعد انتخابات کرائے جا سکتے ہیں ۔اس اجلاس میں شرکت کرنے والے سیاسی رہنماؤں کی اکثریت نے اس پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ اجلاس کی اصل توجہ جمہوری عمل کو مستحکم کرنے پر مرکوز رہی۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کے پابند عہد ہیں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہماری ترجیح ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کی کامیابی کی طرح کامیاب اسمبلی انتخابات کرانے کی ہے۔

قبل ازیں اجلاس میں شریک کانگریس رہنما غلام نبی آزا نے کہا کہ کشمیر رہنماؤں نے ریاست کا درجہ بحال کرنے، اسمبلی انتخابات کرانے، جموں و کشمیر میںپنڈتوں کی باز آباد کاری، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مستقل سکونت قواعد و ضوابط سمیت 5مطالبات اجلاس میں پیش کیے۔ آزاد نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی یقین دلایا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کی پابند عہد ہے۔